قائین کرام : اقرار باللسان کو بعض لوگوں نے " قولِ لسان " سے بھی تعبیر کیا ہے، جبکہ مفہوم دونوں کا ایک ہے ۔

لفظ اِقرار " قَرَّ یَقِرُّ " سے ماخوذ ہے ، جس کا مطلب ہوتا ہے : قرار پانا ، قیام کرنا اور ثابت ہونا ۔
جبکہ اِقرار کا معنی : تسلیم کرنا، ماننا، اعتراف کرنا، قائم وثابت کرنا اور بر قرار رکھنا ہوتا ہے ۔

ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : " ولفظ الإقرار يتضمن الالتزام، ثم إنه يكون على وجهين :
أحدهما: الإخبار، وهو من هذا الوجه كلفظ التصديق، والشهادة، ونحوهما.
والثاني: إنشاء الالتزام، كما في قوله تعالى : " وَإِذۡ أَخَذَ ٱللَّهُ مِیثَـٰقَ ٱلنَّبِیِّـۧنَ لَمَاۤ ءَاتَیۡتُكُم مِّن كِتَـٰبࣲ وَحِكۡمَةࣲ ثُمَّ جَاۤءَكُمۡ رَسُولࣱ مُّصَدِّقࣱ لِّمَا مَعَكُمۡ لَتُؤۡمِنُنَّ بِهِۦ وَلَتَنصُرُنَّهُۥۚ قَالَ ءَأَقۡرَرۡتُمۡ وَأَخَذۡتُمۡ عَلَىٰ ذَ ٰ⁠لِكُمۡ إِصۡرِیۖ قَالُوۤا۟ أَقۡرَرۡنَاۚ قَالَ فَٱشۡهَدُوا۟ وَأَنَا۠ مَعَكُم مِّنَ ٱلشَّـٰهِدِینَ ". (آل عمران : 81). وليس هو هنا بمعنى الخبر المجرد... فهذا الالتزام للأيمان والنصر للرسول ". ( الإيمان الأوسط ،ص: 72، 73).
" لفظ اِقرار التزام (یعنی : کسی چیز کی پابندی) کو متضمن ہے ؛ اس کی دو شکلیں ہیں :
1 - خبر کو ماننا اور تسلیم کرنا ۔
2 - التزام یعنی : پابندی کو اپنانے یا ترک کر دینے کا ارادہ کرنا ۔
جیسا کہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے :
جب اللہ تعالٰی نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب و حکمت سے دوں پھر تمہارے پاس وہ رسول آئے جو تمہارے پاس کی چیز کو سچ بتائے تو تمہارے لئے اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہے ۔ فرمایا کہ تم اس کے اقراری ہو اور اس پر میرا ذمّہ لے رہے ہو؟ سب نے کہا کہ ہمیں اقرار ہے ، فرمایا تو اب گواہ رہو اور خود میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں ۔
یہاں پر لفظ اِقرار مجرد خبر کے معنی میں نہیں ہے ، بلکہ یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور ان کی مدد کرنے کو بھی شامل ہے ۔

یعنی : اللہ رب العزت نے ہم سے صرف اس بات کا اقرار نہیں کرایا تھا کہ جب تمھارے پاس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو تم صرف ان کی تصدیق کرلینا، بلکہ تصدیق کرنے کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور مدد کرنے کا بھی اقرار لیا تھا، کیونکہ صرف تصدیق تو ابوطالب بھی کرتا تھا ۔

موصوف رحمہ اللہ کے کلام کو ہم اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ پوری شریعت دو چیزیں پر منحصر ہے : خبر اور طلب ۔ یعنی شریعت کے اندر یا تو ہمیں کسی چیز کے متعلق خبر دی گئی ہے یا پھر کسی کو کرنے یا نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔
لھذا جن چیزوں کی خبر دی گئی ہے ان کی تصدیق کرنی ہے اور انھیں سچ ماننا ہے ۔

مثلا قرآن کہتا ہے : ٱلرَّحۡمَـٰنُ عَلَى ٱلۡعَرۡشِ ٱسۡتَوَىٰ ". ( طه : 5).
" رحمان عرش پر مستوی ہے " ۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، يَقُولُ : مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ؟ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ؟ ".(صحيح البخاري | بَابُ التَّهَجُّدِ بِاللَّيْلِ | بَابُ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ : 1145).
" ہمارا پروردگار بلند برکت والا ہے ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں، کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں ۔
ان کے علاوہ بہت سارے انبیاء کرام اور ان کی قوموں کے حالات وواقعات کے ساتھ دجال ، یاجوج ماجوج اور دابۃ الارض وغیرہ کی بھی خبریں دی گئیں ہیں، ان تمام خبروں کی تصدیق کرنی ہے اور انھیں صحیح اور سچ ماننا ہے ۔

ساتھ ہی بہت ساری چیزوں کو کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔
جیسے : دعا، ذکر واذکار، توبہ واستغفار ودیگر حقوق وواجبات اور سنن ومستحبات وغیرہ ۔

اور بہت ساری چیزوں سے بچنے کا بھی حکم دیا گیا ہے ۔
جیسے : گالی گلوچ، جھوٹ، غیبت، بہتان ودیگر منکرات وفواحش وغیرہ ۔

لھذا ان تمام اوامر کو بحیثیتِ اوامر اور تمام منہیات کو بحیثیتِ منہیات تسلیم کرنا اور ان کو کرنے یا نہ کرنے کا پختہ التزام اور پابندی کرنا ہے ۔

اور یہ دونوں چیزیں لفظ اِقرار کو شامل ہیں ۔

پہلے معنی کے اعتبار سے لفظ اقرار کا مقابل اور ضد انکار ،تکذیب اور جحود ہے، جبکہ دوسرے معنی کے اعتبار سے اقرار کا مقابل اور ضد نافرمانی، سرکشی اور امتناع ہے ۔

ابن تیمیہ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں : "ولفظ الإقرار: يتناول الالتزام والتصديق، ولابد منهما، وقد يراد بالإقرار مجرد التصديق بدون التزام الطاعة ". ( الإيمان : 380).
" لفظ اِقرار التزام (یعنی پابندی) اور تصدیق دونوں کو شامل ہے بلکہ دونوں کا پایا جانا ضروری بھی ہے، البتہ بسا اوقات لفظ اِقرار سے اطاعت وفرمابرداری کی پابندی کے بجائے محض تصدیق مراد ہوتی ہے ۔
جیسے انبیاء کرام اور ان کی قوموں کے حالات وواقعات وغیرہ کی تصدیق ۔
چنانچہ اللہ رب العزت فرماتا ہے : " قُولُوۤا۟ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَمَاۤ أُنزِلَ إِلَیۡنَا وَمَاۤ أُنزِلَ إِلَىٰۤ إِبۡرَ ٰ⁠هِـۧمَ وَإِسۡمَـٰعِیلَ وَإِسۡحَـٰقَ وَیَعۡقُوبَ وَٱلۡأَسۡبَاطِ وَمَاۤ أُوتِیَ مُوسَىٰ وَعِیسَىٰ وَمَاۤ أُوتِیَ ٱلنَّبِیُّونَ مِن رَّبِّهِمۡ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ أَحَدࣲ مِّنۡهُمۡ وَنَحۡنُ لَهُۥ مُسۡلِمُونَ ". (البقرة : 136).
" تم سب کہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس چیز پر بھی جو ہماری طرف اتاری گئی اور جو چیز ابراہیم ، اسماعیل ، اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر اتاری گئی اور جو کچھ اللہ کی جانب سے موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے انبیاء دیئے گئے ۔ ہم اُن میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے ، ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں ۔

مزید فرماتا ہے : " إِنَّ ٱلَّذِینَ قَالُوا۟ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسۡتَقَـٰمُوا۟ تَتَنَزَّلُ عَلَیۡهِمُ ٱلۡمَلَـٰۤىِٕكَةُ أَلَّا تَخَافُوا۟ وَلَا تَحۡزَنُوا۟ وَأَبۡشِرُوا۟ بِٱلۡجَنَّةِ ٱلَّتِی كُنتُمۡ تُوعَدُونَ ". (فصلت : 30).
" جن لوگوں نے کہا ہمارا پروردگار اللہ ہے اور پھر اسی پر قائم رہے ،ان کے پاس فرشتے ( یہ کہتے ہوئے ) آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو ( بلکہ ) اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعدہ دیئے گئے ہو ۔
جبکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ ".(صحيح البخاري | كِتَابٌ : الْإِيمَانُ | بَابٌ : فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ : 25).
" مجھے ( اللہ کی طرف سے ) حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں اس وقت تک کہ وہ اس بات کا اقرار کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز ادا کرنے لگیں اور زکوٰۃ دیں، جس وقت وہ یہ کرنے لگیں گے تو مجھ سے اپنے جان و مال کو محفوظ کر لیں گے، سوائے اسلام کے حق کے۔ ( رہا ان کے دل کا حال تو ) ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے ۔

خلاصہ یہ کہ صرف زبانی شہادتین کی ادائیگی اور تصدیق کافی نہیں ہے بلکہ ان دونوں کے مدلولات کو قولی وعملی طور پر بجا لانا بھی ضروری ہے ۔
جس کے لئے درج ذیل تین چیزیں لازم ہیں :
1 - توحید کا اقرار کرنا ۔
2 - شرک کو چھوڑنا اور اس سے برات کا اظہار کرنا ۔
3 - اسلامی شرائع کو لازم پکڑنا ۔
 
Top