قارئین کرام : عمل قلب اور عمل جوارح کے درمیان انتہائی گہرا ربط ہے بلکہ اگر دونوں کو لازم ملزوم بھی قرار دیا جائے تو مبالغہ نہیں ہوگا ۔

کیونکہ کوئی بھی عمل جوارح دل کے ارادے کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ بہت سارے نصوص شرعیہ کے اندر ایمان کو عمل سے اور عمل کو ایمان سے تعبیر کیا گیا ہے ۔

وہ نصوص جن میں عمل کو ایمان کہا گیا ہے، ان میں سے ایک اللہ رب العزت کا یہ فرمان ہے : " وَمَا كَانَ اللّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ ". ( البقرة : 143) .
" اللہ تمھارے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا ۔ یعنی : تمھاری ان نمازوں کو جو تم نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے ادا کی تھی ۔
جبکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں اس طرح کے بہت سے تراجم قائم کئے ہیں اور ان کے بعد احادیث کو ذکر کیا ہے ۔
مثلا ، بَابٌ : الْجِهَادُ مِنَ الْإِيمَانِ : کہ جہاد بھی جزو ایمان ہے ۔
بَابٌ : تَطَوُّعُ قِيَامِ رَمَضَانَ مِنَ الْإِيمَانِ : رمضان المبارک کی راتوں میں نفلی قیام کرنا بھی ایمان ہی میں سے ہے ۔
بَابٌ : صَوْمُ رَمَضَانَ احْتِسَابًا مِنَ الْإِيمَانِ : خالص نیت کے ساتھ رمضان کے روزے رکھنا بھی ایمان کا جزو ہیں ۔
بَابٌ : الصَّلَاةُ مِنَ الْإِيمَانِ : وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى : " وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ ". يَعْنِي صَلَاتَكُمْ عِنْدَ الْبَيْتِ : نماز ایمان کا جزو ہے اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تمھارے ایمان کو ضائع کرنے والا نہیں ۔ یعنی تمھاری وہ نمازیں جو تم نے بیت المقدس کی طرح منہ کر کے پڑھی ہیں ۔

*وہ نصوص جن میں ایمان کو عمل سے تعبیر کیا گیا ہے* ان میں سے ایک حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ : أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ فَقَالَ : " إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ". قِيلَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ". قِيلَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " حَجٌّ مَبْرُورٌ ". (صحيح البخاري | كِتَابٌ : الْإِيمَانُ | بَابُ مَنْ قَالَ : إِنَّ الْإِيمَانَ هُوَ الْعَمَلُ : 26).
" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا " کہا گیا، اس کے بعد کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ " اللہ کی راہ میں جہاد کرنا " کہا گیا، پھر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " حج مبرور " ۔

ولید بن مسلم کہتے ہیں : " سمعت الأوزاعي ومالك بن أنس وسعيد بن عبدالعزيز ينكرون قول من يقول: إن الإيمان قول بلا عمل. ويقولون: لا إيمان إلا بعمل ولا عمل إلا بإيمان ". ( رواه الطبري في صريح السنة ، ص : 25 ، واللالكائي في إعتقاد أهل السنة : 4/930 ، 1586).
" میں نے اوزاعی، مالک بن انس اور سعید بن عبدالعزیز کو ان لوگوں پر نکیر کرتے ہوئے سنا جو کہتے کہ" ایمان صرف قول کا نام ہے عمل اس میں شامل نہیں ہے " اور وہ لوگ کہتے تھے کہ عمل کے بغیر ایمان کی کوئی حقیقت نہیں ہے ،اسی طرح ایمان کے بغیر عمل کی بھی کوئی حیثیت نہیں ۔

ہم اس مسئلے کو دو مثالوں کے ذریعے سے واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ایک مثال اعمال جوارح کی جبکہ دوسری مثال اعمال قلوب کی ۔

پہلی مثال : نماز ۔

جو کہ عمل جوارح ہے اور قرآن میں اسے ایمان بھی کہا گیا ہے اور بلا شک وشبہ شہادتین کے بعد سب سے افضل عمل بھی ہے ۔
اگر ہم اس کے اندر غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ نماز ایمان کے چاروں اجزاء کو شامل ہے ۔
1 - قول قلب ، یعنی : نماز کے وجوب کو دل سے تصدیق اور اقرار کرنا ۔
2 - عمل قلب ، یعنی : نماز کی ادائیگی کے لئے دل سے نیت کرنا ۔
3 - عمل لسان ، یعنی : قرات کرنا اور مسنون اذکار کو پڑھنا ۔
4 - عمل جوارح ، یعنی : قیام، رکوع اور سجود کرنا ۔

دوسری مثال : حياء ۔

جو کہ ایک قلبی عمل ہے اور جسے حدیث " شعب " وغیرہ میں ایمان سے تعبیر کیا گیا ہے اس کے باوجود بھی دل کے اندر حیاء کے وجود کو تصور نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ اس کے اثرات زبان اور اعضاء پر ظاہر نہ ہو جائیں ۔
اسی وجہ سے کہا جاتا ہے " بمقدار حياء الجوارح يقاس حياء القلب :

افعال میں حیاء کی مثال :

ابو واقد اللیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ تین آدمی باہر سے آئے۔ دو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضری کی غرض سے آگے بڑھے لیکن تیسرا چلا گیا۔ ان دو میں سے ایک نے درمیان میں خالی جگہ دیکھی اور وہاں بیٹھ گیا۔ دوسرا شخص پیچھے بیٹھ گیا اور تیسرا تو واپس ہی جا رہا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعظ سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنِ الثَّلَاثَةِ : أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَى إِلَى اللَّهِ فَآوَاهُ اللَّهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ ".(صحيح البخاري | كِتَابٌ : الصَّلَاةُ | بَابُ الْحِلَقِ وَالْجُلُوسِ فِي الْمَسْجِدِ : 474 ).
" کیا میں تمہیں ان تینوں کے متعلق ایک بات نہ بتاؤں۔ ایک شخص تو اللہ کی طرف بڑھا اور اللہ نے اسے جگہ دی ، رہا دوسرا تو اس نے ( لوگوں میں گھسنے سے ) شرم کی، اللہ نے بھی اس سے شرم کی، تیسرے نے منہ پھیر لیا۔ اس لیے اللہ نے بھی اس کی طرف سے منہ پھیر لیا ۔
یہاں پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظاہری عمل کو دیکھ کر اس شخص کے حیاء کی شہادت دی، اگر یہ شخص بھی چلا جاتا تو اس کے بارے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہی بات کہتے جو جانے والے کے بارے میں کہا تھا ۔

قول میں حیاء کی مثال :

حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً ، فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ : " فِيهِ الْوُضُوءُ ".( صحيح البخاري | كِتَابٌ : الْوُضُوءُ | بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ الْوُضُوءَ إِلَّا مِنَ الْمَخْرَجَيْنِ : 178).
" میں ایسا آدمی تھا جس کو سیلانِ مذی کی شکایت تھی، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتے ہوئے مجھے شرم آئی۔ تو میں نے ابن الاسود کو حکم دیا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں وضو کرنا ہے ۔
یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دل میں موجود شرم وحیا نے انھیں بذات خود سوال کرنے سے روکے رکھا ۔
یہ دونوں مثالیں افعال( جن کو کرنے کا حکم دیا گیا ہے) کے قبیل سے ہیں ۔ ساتھ ہی ہم تروک ( جن کو چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے) کو بھی ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

ترک زنا :

جو کہ انتہائی قبیح اور شنیع عمل ہے اور شریعت نے اس عمل کو انجام دینے والے شخص سے ایمان کی نفی کی ہے ۔
یہ بھی قول قلب، عمل قلب اور عمل جوارح کو شامل ہے ۔
- قول قلب ، یعنی : زنا کی حرمت کا دل سے اقرار اور اعتراف کرنا
- عمل قلب، یعنی : دل سے اس عمل کو قبیح سمجھنا اور اعضاء کو اس عمل سے دور رکھنے کا پختہ عزم کرنا ۔
- عمل جوارح، یعنی : اس قبیح فعل اور اس کے مقدمات سے رکنا اور دور رہنا ۔
لھذا جو شخص بھی اپنے اعضاء و جوارح کے ذریعے اس گھناؤنے فعل کا ارتکاب کرتا ہے تو بلا شک وشبہ اس کے دل کے عمل کو مفقود سمجھا جائے گا خاص طور سے ارتکاب فعل کے وقت، اس لئے کہ ترک پر پختہ عزم کرلینے کے ساتھ فعل کا وقوع محال ہے ۔

ایمان کے ساتھ عمل کا تعلق چار حالتوں پر منحصر ہے :

1- دونوں یکجا ہوں، یعنی قلبی ایمان اور اعضاء وجوارح کا عمل دونوں موجود ہوں ۔
2 - دونوں موجود نہ ہوں، یعنی قلبی ایمان اور اعضاء وجوارح کا عمل دونوں موجود نہ ہوں ۔
3 - اعضاء وجوارح کے اعمال تو ہوں مگر دل میں ایمان موجود نہ ہو ۔
4 - دل کے اندر ایمان تو ہو مگر اعضاء وجوارح کا عمل مفقود ہو ۔
لھذا پہلی قسم کے لوگ " مؤمن " ہیں، اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے ۔
دوسری قسم کے لوگ" کافر " ہیں، اس میں کسی کا اختلاف نہیں ۔
تیسری قسم کے لوگ " منافق " ہیں ،اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے ۔
چوتھی قسم کے لوگوں میں اختلاف ہے، فرقہ مرجئۃ انھیں پہلی قسم کی طرح مؤمن مانتے ہیں ،جبکہ سلف کے نزدیک " عمل کو ترک کرنا " در حقیقت ایمان کے ایک رکن کو ترک کرنا ہے جس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہو سکتا ہے ۔

خلاصہ کلام یہ کہ حقیقی ایمان وہ ہے جو دل کے اندر ثابت ہو، زبان اور عمل اس کی تصدیق کرتے ہوں اور اس کے اثرات وثمرات اوامر الہی کی امتثال اور بجاوری و نواہی سے ابتعاد و دوری کی صورت میں اعضاء و جوارح پر نمایاں اور ظاہر ہوں ۔
لھذا جس نے دل سے تصدیق کی اور زبان سے اقرار کیا لیکن اعضاء وجوارح سے مامور بہ طاعات کو انجام نہیں دیا تو وہ صاحب ایمان نہیں ہے ۔
اور جس نے زبان سے اقرار کیا اور اعضاء وجوارح سے عمل بھی کیا لیکن دل سے تصدیق نہیں کی تو بھی وہ مؤمن نہیں ہے ۔

اور ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے قلبی اعتقاد، زبانی اقرار اور اعمال پر نظر ثانی کرے اور اندازہ لگائے کہ کیا وہ حقیقی معنوں میں مؤمن ہے کہ نہیں؟
اگر ہے تو اللہ رب العزت کا شکریہ ادا کرے اور اسی پر مزید استقامت اور مضبوطی کے ساتھ جما رہے ۔
اور اگر تینوں اجزاء میں سے کسی ایک جزء کے اندر کمی ،کوتاہی یا نقص ہے تو ہر ممکن طریقے سے اسے دور کرنے کی کوشش کرے ۔
 
Top