شریعت مطہرہ نے شادی اور نکاح کی چند صورتوں کو حرام قرار دیا ہے جن میں سے ایک نکاح شغار بھی ہے جسے ہم اپنی زبان میں نکاح بدل یا وٹہ سٹہ بولتے ہیں ۔

شغار کا لغوی معنی : یہ شغر الکلب سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہوتا ہے کتے کا ( پیشاب کرنے کے لئے) پیر اٹھانا ۔
چنانچہ جس طرح کتا پیر اٹھاتا ہے اسی طرح شغار میں آدمی دوسرے کی بہن بیٹی وغیرہ کا پیر اٹھاتا ہے یعنی نکاح کر کے گھر لاتا ہے اور دوسرا اس کی بہن بیٹی کو نکاح کر کے گھر لاتا ہے ۔ چونکہ شغار " باب مفاعلہ" سے ہے لہذا " رفع "میں مشارکت ہو گی ۔

شغار کی شرعی تعریف : آدمی اپنی بہن ، بیٹی یا اپنی ولایت میں موجود کسی لڑکی کا نکاح کسی کے ساتھ اس شرط پر کرے کہ وہ بھی اپنی بہن ،بیٹی یا اپنی ولایت میں موجود کسی لڑکی کا نکاح اس کے یہاں کرے ۔ خواہ مہر ہو یہ نہ ہو ". ( صحيح فقه السنة وأدلته وتوضيح مذاهب الأئمة : 3/96).

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

" تمام اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ بھتیجیاں، بھانجیاں، پھوپھی اور چچا کی بیٹیاں نیز لونڈیوں کا بھی وٹہ سٹہ (شغار)کی شادی میں وہی حکم ہے جو انسان کی اپنی بیٹی کا حکم ہے۔" (شرح صحيح مسلم :9/201).

نکاح شغار کا حکم :

نکاح شغار حرام ہے اس پر اہل علم کا اجماع ہے ۔( فتح الباری : 9/163).

ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں : " نکاحِ بدل جائز نہیں ہے اسے شغار اور وٹہ سٹہ بھی کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد احادیث میں اس سے منع فرمایا ہے، اس لیے شرط لگا کر وٹہ سٹہ کی شادی کرنا جائز نہیں ہے، مثلاً ایک شخص کہے : تم مجھ سے اپنی بہن کی شادی کر دو میں تم سے اپنی بہن کو بیاہ دوں گا، یا تم مجھ سے اپنی بیٹی کی شادی کر دو میں تمہارے ساتھ اپنی بیٹی بیاہ دوں گا، یہ نکاح بدل اور وٹہ سٹہ کی شادی کہلاتا ہے، عربی میں اسے نکاح شغار کہتے ہیں، چاہے اس میں حق مہر بھی ہو ، شرط لگائے جانے کی صورت میں حق مہر برابر یا مختلف کسی بھی انداز میں ہو یہ نکاح جائز نہیں ہو گا ".( فتاوى نور على الدرب لابن باز : 21/26)

سوال : اگر کوئی نکاح شغار کر لیتا ہے تو وہ صحیح ہو گا یا فاسد ؟

جواب : اس میں علماء کرام کا اختلاف ہے البتہ جو بات صحیح ہے اور جس کی طرف جمہور اہل علم گئے ہیں وہ یہی ہے کہ ایسا نکاح باطل ہے ۔

باطل کا مطلب وہ شادی ہوگی ہی نہیں اور نہ ہی اس کے کچھ اثرات مرتب ہوں گے ۔(صحيح فقه السنة وأدلته وتوضيح مذاهب الأئمة : 3/96).

چنانچہ ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: " امام احمد سے اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ : وٹہ سٹہ کی شادی فاسد نکاح ہے ". (المغنی : 10/42)

جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں :
"وٹہ سٹہ کی شادی جائز نہیں ہے اور اسے فسخ کیا جائے گا ". ( الأم : 6/198)

اس کے دلائل درج ذیل ہیں :

1 - أبو هريرة رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ. قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : وَالشِّغَارُ كَانَ الرَّجُلُ يُزَوِّجُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ أُخْتَهُ ". (صحيح مسلم | كِتَابٌ : النِّكَاحُ. | بَابٌ : تَحْرِيمُ نِكَاحِ الشِّغَارِ وَبُطْلَانِهِ : 1416،سنن النسائي | كِتَابُ النِّكَاحِ | تَفْسِيرُ الشِّغَارِ : 3338 واللفظ له).
" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا : راوی عبیداللہ نے کہا: شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا نکاح دے اس شرط پر کہ دوسرا اسے اپنی بہن کا نکاح دے گا ۔
یاد رہے کہ راجح قول کے مطابق شغار کی یہ تعریف ابن عمر رضی اللہ عنہ کی نہیں بلکہ نافع کی ہے ". ( دیکھئے صحیح البخاری : 6960).

2 - ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ ".( كِتَابٌ : النِّكَاحُ. | بَابٌ : تَحْرِيمُ نِكَاحِ الشِّغَارِ وَبُطْلَانِهِ : 1415).
" اسلام میں شغار کا کوئی تصور نہیں ہے ".

نوٹ : مذکورہ دونوں احادیث میں نہی اور لائے نفی جنس دونوں نکاح شغار کی تحریم اور بطلان پر دلالت کر رہی ہیں ۔

جیسا کہ امام خطابی نے ''معالم السنن'' میں اس نکاح کو ایسے ہی باطل قرار دیا ہے جس طرح نکاحِ متعہ اور لڑکی پر اس کی خالہ اور پھوپھی کا نکاح باطل ہے ". 3/192).

3 - عبد الرحمن بن هرمز الأعرض کہتے ہیں کہ : " أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ أَنْكَحَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَكَمِ ابْنَتَهُ، وَأَنْكَحَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنَتَهُ، وَكَانَا جَعَلَا صَدَاقًا، فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى مَرْوَانَ يَأْمُرُهُ بِالتَّفْرِيقِ بَيْنَهُمَا، وَقَالَ فِي كِتَابِهِ : هَذَا الشِّغَارُ الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". (سنن أبي داود | كِتَابٌ : النِّكَاحُ | بَابٌ : فِي الشِّغَارِ : 2075).
" عباس بن عبداللہ بن عباس نے اپنی بیٹی کا نکاح عبدالرحمٰن بن حکم سے کر دیا اور عبدالرحمٰن نے اپنی بیٹی کا نکاح عباس سے کر دیا اور دونوں نے مہر بھی دیا ، چنانچہ جب معاویہ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو انھوں نے مروان کو ان کے درمیان جدائی کا حکم لکھ کر بھیجا اور اپنے خط میں یہ بھی لکھا کہ یہی وہ نکاح شغار ہے جس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے ".

اعتراض : اگر کوئی کہے کہ بعض روایت میں " وقد کانا جعلا صداقا " کی جگہ " وقد کانا جعلاہ صداقا " ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں جعل مرکب ہے جس کا پہلا مفعول (ضمیر) محذوف ہے اور معنی یہ ہے کہ انہوں نے اسی نکاح کو مہر قرار دیا تھا جو عدم تقرر مہر ہی کی صورت ہے ۔

جواب : " ہ ضمیر " کا اضافہ ثابت نہیں ہے
صاحب عون المعبود عظیم آبادی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : " وكانا جعلا صداقا "
" جعلا " کا مفعول اول محذوف ہے، تقدیری عبارت یہ یہ ہے " كانا جعلا إنكاح كل واحد منهما الآخر ابنته صداقا " .(عون المعبود شرح سنن أبي داؤد : 6/61).
جبکہ خلیل احمد سہارنپوری فرماتے ہیں : "
ابو داود کے تمام نسخوں میں "جعلا " بغیر ضمیر ہی کے مذکور ہے ، اور اسی طرح مسند امام احمد کے مصری نسخے میں بھی ہے جس طرح سنن ابی داود میں ہے اور میں نے " ہ ضمیر " کے ساتھ صرف امام شوکانی رحمہ اللہ کی کتاب منتقی الاخبار کے نسخہ میں پایا ہے ، ان کی کتاب کے علاوہ کہیں اور جعلا ضمیر کے ساتھ مجھے نہیں ملا ".(بذل المجهود في حل سنن أبي داود : 7/641). "

اسی طرح حدیث کے الفاظ ''هذا الشغار'' میں مبتدا خبر دونوں معرفہ ہیں اور ایک معرف باللام ہے جس کا مفہوم یہ نکلتا ہے کہ مع تقرر مہر کا شغار میں داخل ہونا ایسا یقینی ہے۔ جیسا کہ صرف یہی شغار ممنوعہ ہے۔ اس مبالغہ سے مقصد حضرت معاویہ رضی اللہ کا یہ ہے کہ اس صورت کے شغار سے خارج ہونے کا کسی قسم کا شبہ نہ کیا جائے ۔

4 - ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشِّغَارِ، وَالشِّغَارُ : أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الْآخَرُ ابْنَتَهُ، لَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ ". ( البخاری | كِتَابُ النِّكَاحِ | بَابُ الشِّغَارِ : 5112).
" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ہے ۔ شغار یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی لڑکی یا بہن کا نکاح اس شرط کے ساتھ کرے کہ وہ دوسرا شخص اپنی ( بیٹی یا بہن ) اس کو بیاہ دے اور مہر کچھ بھی نہ ہو ".

نوٹ : " لَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ " کی جو قید اتفاقی ہے احترازی نہیں ۔
کیونکہ عام طور پر نکاح شغار بغیر مہر کے ہی ہوتا تھا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نکاح میں اصل تبادلہ عورت ہے، نہ کہ مہر ۔

معلوم ہوا کہ نکاح شغار حرام ہے خواہ مہر ہو یا نہ ہو

یہاں پر یہ بات یاد رہے کہ اگر مہر مثل ہو، میاں بیوی دونوں ہم پلہ ہوں اور دونوں کے درمیان رضا مندی پائی جائے تو ایسی شادی کو شیخ ابن عثیمین نے : الشرح الممتع على زاد المستقنع : 12/174) ، میں ابن تیمیہ نے : مجموع الفتاوى : 34/126) میں اور ان کے علاوہ بھی کچھ علماء اس کا شغار یا نکاح بدل میں شمار نہیں کیا ہے ۔

مگر جو بات زیادہ اقرب معلوم ہوتی ہے وہ یہی کہ مہر اور رضامندی کے باوجود بھی اس کا شمار نکاح شغار یا نکاح بدل میں ہوگا جیسا کہ ابو داؤد کی حدیث میں اس کی وضاحت موجود ہے ۔
نیز جس اندیشے، فتنے اور خدشے کے سبب شریعت نے اس شادی کو حرام قرار دیا ہے اس اندیشے، فتنے اور خدشے کا مکمل اور قوی امکان نکاح شغار میں موجود ہوتا ہے چاہے مہر ہو یا نہ ہو ۔

چنانچہ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں : "
"صحیح بات یہ ہے کہ ایسی مشروط شادی ہر حالت میں شغار کہلائے گی؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ حدیث کا مطلب یہی بنتا ہے، ویسے بھی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ : " اور شغار یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے کو کہے: تم مجھ سے اپنی بہن کی شادی کر دو اور میں تمہاری شادی اپنی بہن سے کر دیتا ہوں، یا تم مجھ سے اپنی بیٹی بیاہ دو میں تم سے اپنی بیٹی بیاہ دیتا ہوں" اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ نکاح شغار اسی وقت ہو گا جب اس میں حق مہر نہ ہو، بلکہ مطلق طور پر اسے نکاحِ شغار قرار دیا گیا ہے ". ( مجموع فتاوى ابن باز : 20/280).

نیز اگر آپ زمینی اور معاشرتی سطح پر جب نکاح شغار کو دیکھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ مہر ہونے یا نہ ہونے سے اس کی قباحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے ، کیونکہ جب خرابی پیدا ہوتی ہے تو دونوں گھر اجڑ جاتے ہیں، جبکہ قصور ایک کا ہوتا ہے اور دوسرا بلاوجہ زیادتی کا نشانہ بن جاتا ہے ۔

خلاصہ کلام یہ کہ نکاح شغار حرام اور باطل ہے خواہ مہر ہو یا نہ ہو ۔

نکاح شغار کے حرام ہونے کی حکمت :

1 - ظلم سے بچاؤ ۔

چنانچہ ہم اس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ گناہ ایک کا ہوتا ہے سزا دو کو ملتی ہے ۔

مثلا : اگر ایک طرف لڑکی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو دوسری طرف والا لڑکا اپنی بہن، بیٹی، یا اپنے متعلقہ کی غلطی پوچھے بغیر اپنی بیوی کے ساتھ بھی وہی طرز عمل اختیار کرتا ہے جو دوسری طرف اس کی بہن، بیٹی یا اس کے متعلقہ کے ساتھ اختیار کیا گیا ہوتا ہے ۔

ایک طرف اگر عورت پر ہاتھ اٹھا دیا جائے تو دوسری طرف بلا کسی خطا کے پیٹ کر رکھ دیا جاتا ہے ۔

ایک طرف طلاق ہو جائے تو دوسری طرف بے گناہ ہونے کے باوجود طلاق دے دی جاتی ہے ۔

ایک طرف اگر لڑکی کی زندگی اس کے کرتوتوں کی وجہ سے تباہ ہو جاتی ہے تو دوسری طرف بھی ایک بے گناہ لڑکی کی زندگی تباہ کر دی جاتی ہے ۔

2 - حق تلفی سے بچاؤ ۔

چنانچہ ایک طرف اگر عورت کے نان ونفقہ کو پورا نہ کیا جائے تو دوسری طرف بھی عورت کے نان ونفقہ کو روک دیا جاتا ہے ۔
ایک طرف اگر عورت کے حقوق ادا نہ کئے جائیں تو دوسری طرف بھی عورت کے حقوق سلب کر، لئے جاتے ہیں ۔
نتیجتا فتنہ و فساد رونما ہوتا ہے، دو گھر اور دو قبیلے کے درمیان تناؤ پیدا ہوتا ہے اور گھروں کا چین وسکون غارت ہو کر رہ جاتا ہے ۔
چنانچہ اسلام جو ہر فتنہ وفساد اور حرام کا ذریعہ و سبب بننے والی چیزوں کو حرام قراد دیتا ہے بھلا وہ کیسے اس نکاح کو سند جواز عطا کر سکتا ہے جس کے اندر ایک سے زائد خدشات ہوں، فتنوں کے رونما ہونے کا خوف ہو، حق تلفی اور ظلم کا امکان ہو؟؟!!
 
Top