قارئین کرام : خرید وفروخت لین دین اور بیع وشراء انسانی زندگی کا ایک لازمی جز ہے حتی کہ عورتیں بھی اس سے مستثنی نہیں ہیں اگرچہ وہ تجارت اور کاروبار نہ کرتی ہوں مگر لباس، اور یومیہ اشیائے خوردونوش کو ضرور خریدتی یا بیچتی ہیں، لہذا مناسب معلوم ہوا کہ بیع اور لین دین کی تعریف ارکان ، شروط اور جدید لین دین کی شکلوں پر مختصر روشنی ڈال دی جائے تاکہ ایک مسلمان شرعی حدود میں رہ کر حلال اور پاکیزہ روزی کا اہتمام کر سکے اور حرام کمائی سے بچ سکے ۔

بیع کی لغوی تعریف : بیع باع یبیع کا مصدر ہے جس کا معنی " مبادلة شيء بشيء " ہے ۔
یعنی : کسی چیز کا کسی چیز کے ذریعہ تبادلہ کرنا ۔
نیز یہ " إعطاء " و " أخذ " کے معنی میں بھی مستعمل ہے اسی لئے علماء لغت نے اس کلمہ کو " لغت اضداد " میں شمار کیا ہے اس لئے کہ اس کا اطلاق بیع اور شراء دونوں پر ہوتا ہے ۔

سوال : جب مصدر کی جمع نہیں لائی جاتی تو پھر " البیوع" کیوں کہتے ہیں؟؟؟
جواب : جب مصدر سے " نوعیت" مقصود ہو تو نوعیت کے اعتبار سے جمع لانا جائز ہو جاتا ہے ۔
چونکہ بیع کے بہت سارے " انواع " ہیں اسی لئے اس کی جمع " بیوع " لائی جاتی ہے ۔

بیع کی اصطلاحی تعریف : فقہاء کرام نے بیع کی مختلف تعریفات کی ہیں ، مگر ہم یہاں پر سب سے دقیق تعریف کو جاننے پر اکتفا کریں گے ۔

" مبادلة مال ، ولو في الذمة، أو منفعة مباحة، بمثل أحدهما ، على التأبيد، غير ربا ،ولا قرض ". ( فقه المعاملات المالية للرحيلي ، ص : 28).
" مال - اگرچہ وہ صاحب مال کے ذمہ میں ہو - یا مباح منفعت کا تبادلہ مال یا منفعت میں سے کسی ایک کے ذریعہ ہمیشہ ہمیش کے لئے کرنا، جس میں سود اور قرض نہ ہو ".

تعریف کی شرح :

- مبادلة : مفاعلۃ کے وزن پر ہے جس میں دو لوگوں کی شراکت ضروری ہوتی ہے ۔
لہذا " بیع " میں طرفین کا ہونا بالکل ضروری ہے، کیونکہ آدمی خود سے اپنا سامان نہیں بیچ سکتا ہے ۔

- مبادلة مال : ہمارے عرف میں مال کا اطلاق صرف " نقود " پر ہوتا ہے مگر فقہاء کرام کے یہاں " مال " سے صرف " نقود" مراد نہیں ہے بلکہ مال سے مراد " ہر وہ چیز ہے جو قابل انتفاع ہو اور وہ ملکیت میں بھی ہو ".
خواہ وہ نقدی ہو جیسے سونا، چاندی اور کرنسی وغیرہ ۔
خواہ منقولہ اشیاء ( جنہيں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے) ہوں جیسے گاڑی فرنیچر وغیره ۔
خواہ غیر منقولہ اشیاء ہوں جیسے گھر اور زمین وغیرہ ۔

بعض لوگوں نے " بغير الحاجة والضرورة " کی بھی قید لگائی ہے ۔

یعنی : المال يشمل كل عين ينتفع به وتملك بغير الحاجة والضرورة ".

ضرورت کا مطلب : انسان کسی چیز کا اس درجہ محتاج ہو کہ اس کے نہ ملنے پر ہلاک ہو جائے ۔
اسی بنا پر ضرورت کے وقت حرام اشیاء استعمال کرنا جائز بلکہ واجب بھی ہو جاتا ہے ۔
مثلا : ایک انسان ایسی جگہ ہے جہاں پینے کے لئے صرف " پیشاب یا شراب " اور کھانے کے لئے " مردار یا غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا جانور " ہے تو ایسی صورت میں ان چیزوں کو اگر وہ خرید لیتا ہے تو گنہگار نہیں ہو گا جبکہ عام حالت میں وہ ان اشیاء کی خرید وفروخت نہیں کر سکتا ".

حاجت کا مطلب : انسان کسی چیز کا اس درجہ محتاج ہو کہ اس کے نہ ملنے پر اس کی ہلاکت کا خطرہ تو نہ ہو مگر بڑے نقصان کا قوی خدشہ ہو ۔
مثلا : بکری کی ریوڑ یا گھر وکھیت کھلیان وغیرہ کی حفاظت کے لئے " کتا " خریدنا جب یہ خطرہ ہو کہ بکریوں کو بھیڑیا کھا جائے گا یا کھیت کھلیان اور گھر میں چوری، ڈاکہ یا کسی اور سے نقصان کا قوی امکان ہو ۔

جبکہ عام حالات میں " کتے " کی خرید وفروخت حرام ہے ، کیونکہ کتا، شراب، پیشاب اور مردار وغیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا جانور ایسا " مال " نہیں ہے جو " شرعا " قابل انتفاع ہو ۔

ولو في الذمة :
فقہاء نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ " مبیع " ( وہ چیز جس کی خرید وفروخت ہو رہی ہو ) کی چار شکلیں ہو سکتی ہیں :
1 - یا تو بعینہ حاضر ہوگا ۔
2 - یا تو حاضر نہیں ہوگا بلکہ صاحب مال کے " ذمہ" میں ہوگا اور اس کی صفت اس طرح بیان کر دی جائے گی کہ اس سے " جہالت اور دھوکہ " بالکل ختم ہو جائے گا ۔
جیسے جب ہم " flipkart " یا " Amazon " وغیرہ سے موبائل خریدتے ہیں تو وہ بعینہ موجود نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ ان کے مالک کی ذمہ داری میں ہوتا ہے اور اس کی صفت اس طرح بیان کر دی جاتی ہے کہ اس میں " جہالت اور دھوکے " کا خطرہ نہیں رہتا ۔
مثلا :
- 4 جی بی ریم ۔
- 64 جی بی انٹرنل ۔
- 64 میگا پکسل کیمرہ
- 4200 ایم اے ایچ بیٹری وغیرہ ۔

3 - یا حاضر نہیں بلکہ غائب ہوگا ۔
مثلا : فلاں شہر یا جگہ میں " زمین یا گھر " ہے جس کا طول وعرض اتنا اتنا ہے اور اس اس کیفیت اور صفت کا ہے ۔

4 - یا اصلا موجود ہی نہیں ہوگا بلکہ مستقبل کے اندر وجود میں آنے کا امکان ہوگا اسے اصطلاح میں " بیع سلم " کہا جاتا ہے ۔
خلاصہ یہ کہ " مبیع یا تو بعینہ حاضر اور موجود ہوگا یا پھر بائع کے ذمہ میں ہوگا ۔
اور اگر بائع کے ذمہ میں ہوگا تو دو صورتوں سے خالی نہیں ہوگا ۔
1 - وہ حقیقت میں تو موجود ہوگا مگر بائع کے ذمہ میں ۔
2 - وہ اصلا موجود ہی نہیں ہوگا اور یہ بیع صرف " سلم " کے ساتھ خاص ہوگا ۔

أو منفعة مباحة :

منفعت جو " عین " یعنی : کوئی ظاہری اور محسوس چیز نہ ہو بلکہ " عین " سے منتج اور پیدا ہونے والی چیز ہو ۔
مثلا : سلمان کے پاس ایک بڑا سا گھر ہے اور اس کے سامنے ایک مسجد ہے اور پیچھے شفیق کا گھر ہے ، اب شفیق سلمان کے پاس آکر کہتا ہے کہ " ماشاء اللہ آپ کا گھر کافی بڑا ہے " جس کی وجہ سے مسجد تک جانے کے لئے مجھے دور کا چکر کاٹنا پڑتا ہے لہذا میں چاہتا ہوں کہ آپ کی زمین سے گزرنے کی منفعت خرید لوں ، تاکہ آسانی اور جلدی سے مسجد پہونچ سکوں ۔ تو اس کا شمار بھی " بیع " میں ہوگا ۔
یہاں پر شفیق سلمان سے زمین نہیں خرید رہا ہے بلکہ اس زمین پر سے گزرنے کی منفعت خرید رہا ہے ۔
اسی طرح ہم موبائل کے لئے جو " ریچارچ " خریدتے ہیں وہ بھی کوئی " عین اور ظاہری " چیز نہیں ہے بلکہ ایک " منفعت " ہے یعنی : کسی نیٹورک سے حاصل ہونے والا فائدہ خریدتے ہیں ۔

بمثل أحدهما :

چونکہ کبھی مال کا مبادلہ منفعت سے ہوتا ہے ۔
کبھی منفعت کا مبادلہ مال سے ہوتا ہے ۔
کبھی مال کا مبادلہ مال سے ہوتا ہے ۔
الغرض طرفین میں سے ایک طرف " مال یا منفعت " ہو اور دوسری طرف بھی " مال یا منفعت " ہو ۔

على التأبيد :

یعنی : یہ لین دین اور بیع وشراء ہمیشہ ہمیش کے لئے ہو ۔
اس سے " اجارۃ " یا شادی و دیگر تقاریب وغیرہ کے لئے ٹینٹ، لائٹ وغیرہ کو لینا خارج ہو جاتا ہے ۔
اس میں مال یا منفعت کا مبادلہ تو ہوتا ہے مگر وقتی طور کے لئے یعنی : ایک دن ، دو دن یا چند دنوں کے لئے ہوتا ہے ہمیشہ ہمیش کے لئے نہیں ۔

غير ربا ولا قرض :

چونکہ سابقہ معنی اور مفہوم " سود " پر بھی منطبق ہوتا ہے اس لئے علماء نے اسے مستثنی قرار دیا ہے ۔
اسی طرح " قرض " بھی بیع کے اندر داخل نہیں ہے اس لئے اسے بھی الگ کر دیا ہے ۔ ( دیکھئے، فقه المعاملات المالية، ص : 32 ، ) ۔

بیع کے ارکان :

بیع کے چار ارکان ہیں ۔

1 - خریدنے والا ۔
2 - بیچنے والا -
3 - ثمن اور مثمن -
4 - خریدنے اور بیچنے والے کے درمیان لفظی تصرف جو باہمی رضامندی سے ہو اور جس کے ذریعہ سے سودا کیا جاتا ہو ۔ جیسے میں نے بیچا، میں نے خریدا یا پھر جو " عرف " میں مشہور ہو ۔ ( البيوع المحرمة والمنهي عنها، ص : 15بحذف وإضافة)
 
Top