قارئین کرام : شریعت مطہرہ نے حلال کمائی پر بہت زیادہ زور دیا ہے، حتی عبادت کا حکم دینے سے پہلے حلال رزق کھانے کا حکم دیا ہے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : " یَـٰۤأَیُّهَا ٱلرُّسُلُ كُلُوا۟ مِنَ ٱلطَّیِّبَـٰتِ وَٱعۡمَلُوا۟ صَـٰلِحًاۖ إِنِّی بِمَا تَعۡمَلُونَ عَلِیمࣱ ". (المؤمنون : 51).
" اے رسولو! حلال رزق کھاؤ اور صالح اعمال انجام دو، یقینا میں تمہارے اعمال سے باخبر ہوں ۔
جبکہ حرام کمائی سے ڈراتے ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ مَا أَخَذَ مِنْهُ ؛ أَمِنَ الْحَلَالِ أَمْ مِنَ الْحَرَامِ ".( صحيح البخاري | كِتَابٌ : الْبُيُوعُ. | بَابُ مَنْ لَمْ يُبَالِ مِنْ حَيْثُ كَسَبَ الْمَالَ : 2059).
" لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان کوئی پرواہ نہیں کرے گا کہ جو مال اس نے حاصل کیا ہے وہ حلال سے ہے یا حرام سے ہے ".

چنانچہ انہیں حرام کمائی کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ " ڈریم 11 " ( dream - 11). ہے

سوال : ڈریم 11 ( dream -11) کیا ہے؟؟

جواب : ڈریم 11 ایک کمپنی اور ایپ (app) ہے جسے انسٹال کرکے آئی پی ایل ( یا دیگر کھیلوں کے اندر) ٹیموں میں کوئی ایک ٹیم سلیکٹ کی جاتی ہے ۔
جس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ میچ شروع ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے تک آپ دونوں ٹیموں میں سے گیارہ کھلاڑیوں کو سلیکٹ کریں گے ، جس میں ایک وکٹ کیپر، تین سے پانچ بیسٹ مین ، تین سے پانچ بالر، اور ایلک سے تین آل راؤنڈر کی سلیکشن کرنی پڑے گی ، اس کے بعد انہیں گیارہ کھلاڑیوں میں سے ایک کو کپتان اور ایک کو نائب کپتان چننا پڑے گا، جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اگر کپتان رن بنائے گا تو اسے ڈبل پوائنٹس ملیں گے جبکہ نائب کپتان کے رن بنانے پر 1.5 پوائنٹس حاصل ہوں گے ۔
اس میں ہر زمرے اور contest کے فیس مختلف ہوتے ہیں ۔
مثلا : اگر آپ 26 روپیہ لگاتے ہیں تو آپ کے ساتھ لاکھوں لوگ ہوں گے اور پوائنٹس کے اعتبار سے ان سب کے درمیان روپیہ تقسیم کیا جائے گا ۔
اور اس سے جس قدر زیادہ روپیہ لگائیں گے اسی اعتبار سے آپ کے زمرے اور contests میں لوگ کم ہوتے جائیں گے جس کی وجہ سے زیادہ روپئے ملنے کے امکانات ہوتے ہیں ۔
چنانچہ جو ٹیم آپ نے بنائی ہے اگر انہوں نے عمدہ کارکردگی اور بہترین پرفارمنس کیا تو آپ کے پوائنٹس میں اضافہ ہوگا اور آپ روپیہ جیت سکیں گے ۔

شریعت میں اس کا کیا حکم ہے ؟؟

اسلام ضابطے اور قانون کی روشنی میں اس طرح کے ایپس (apps) ویب سائٹس (websides) یا کمپنیوں کا استعمال کرنا ناجائز اور ان سے حاصل ہونے والا روپیہ سراسر حرام ہے ۔ کیونکہ یہ جوا کی ایک شکل ہے ۔

سوال : جوا(Gambling) کسے کہتے ہیں؟

جواب : علماء کرام نے اس کی مختلف تعریفات کی ہیں ۔ جنہیں آپ التعريفات ، ص 229 ، رقم : 1152، تبيين الحقائق : 6/227 ، الجامع لأحكام القرآن : 3/57 ، وغیرہ میں دیکھ سکتے ہیں ).
خلاصہ یہ ہے کہ ہر وہ معاملہ جس میں کسی غیر یقینی واقعے کی بنیاد پر کوئی رقم اس طرح داؤ پر لگائی گئی ہو کہ یا تو رقم لگانے والا اپنی لگائی ہوئی رقم سے ہاتھ دھو بیٹھے یا اسے اتنی ہی یا اس سے زیادہ رقم کسی معاوضہ کے بغیر مل جائے ۔

گویا اس میں چار چیزیں لازما پائی جاتی ہیں ۔

1️⃣۔ معاملہ دو یا دو سے زائد فریقوں کے درمیان ہورہا ہو ۔
2️⃣ ۔ معاملہ کرنے والے شرکاء میں سے ہر ایک اپنا مال داؤ پر لگائے ۔
3️⃣ ۔ اپنے لگائے ہوئے مال سے زائد مال یا دوسرے کے مال کا حاصل ہونا کسی ایسے غیر یقینی واقعے پر موقوف ہو جس کے پیش آنے کا احتمال بھی ہو اور پیش نہ آنے کا احتمال بھی ۔
4️⃣ ۔ داؤ پر لگایا ہوا مال بلامعاوضہ ہاتھ سے چلا جائے، یا اپنے ساتھ دوسرے کا مال بلا کسی معاوضہ کے کھینچ لائے ۔(بحوث في قضایا فقهیة معاصرة : 2/236 بتصرف).

مذکورہ چاروں چیزیں " ڈریم 11 " گیم پر فٹ آتی ہیں ۔

اس کو قرآن کی اصطلاح میں "میسر" کہتے ہیں ، جو کہ " یسر " یا " یسار " سے ماخوذ ہے اور سہولت وآسانی کے معنی میں مستعمل ہے ۔تو ہر وہ کھیل جس میں آسانی و سہولت سے کچھ حاصل ہونے یا کھونے کی توقع ہو اسے میسر کہیں گے ۔
اور اگر اس کھیل میں مادی طور پر کچھ کھونے یا پانے کا معاملہ نہ ہو ،بلکہ محض وقت کا ضیاع اور دینی و دنیوی فرائض سے غفلت کا سبب بنےتو ایسا کھیل بھی "میسر " ہی کہلائے گا ۔
جیسا کہ " الموسوعة الفقہیة الکویتیة کے اندر جوئے کی تعریف میں لکھا ہے : "المَيْسِرُ: مَيْسِرانِ، مَيْسِرُ اللَّهْوِ ومَيْسِرُ القِمارِ فَمِن مَيْسِرِ اللَّهْوِ النَّرْدُ والشِّطْرَنْجُ والمَلاَهِي كُلُّها، ومَيْسِرُ القِمارِ ما يَتَخاطَرُ النّاسُ عَلَيْهِ. وبِمِثْل ذَلِكَ قال ابْنُ تَيْمِيَّةَ "(الموسوعة الفقہیة الکویتیة: 39/404 ، نيل المرام من تفسير آيات الأحكام : 1/66).
" میسر دو طرح کا ہوتا ہے ، ایک "میسر اللہو " ۔یعنی (مقاصد زندگی سے ) غافل کردینے والا کھیل " جیسے نرد ،شطرنج ،اور تمام بے مقصد کھیل ، اور دوسرا میسر قمار جسے عرف عام میں جوا کہا جاتا ہے جس میں کھیلنے والے کے لئے نفع ونقصان یا جیتنے اور ہارنے کا خطرہ رہتا ہے،اور جوئے کی تعریف میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی یہی بات کہی ہے ".

ڈریم 11 کی حرمت کے دلائل ۔

گزشتہ سطور سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ڈریم 11 سے گیم کھیلنا واضح طور پر " جوا " ہے ۔ جس کی حرمت کے دلائل درج ذیل ہیں ۔

- ارشاد بای تعالیٰ ہے : " یا أیُّہَا الَّذِیْنَ آمنُوا انَّمَا الخمرُ وَالمَیْسِرُ والأنصابُ والأزلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطانِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ اِنَّمَا يُرِيۡدُ الشَّيۡطٰنُ اَنۡ يُّوۡقِعَ بَيۡنَكُمُ الۡعَدَاوَةَ وَالۡبَغۡضَآءَ فِى الۡخَمۡرِ وَالۡمَيۡسِرِ وَيَصُدَّكُمۡ عَنۡ ذِكۡرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ‌ ۚ فَهَلۡ اَنۡـتُمۡ مُّنۡتَهُوۡنَ ". ( المائدة : 9-10).
" اے ایمان والو ! یہ شراب اور یہ جوا یہ آستانے اور پانسے سب گندے شیطانی کام ہیں لہذا ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پا سکو شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے روک دے تو کیا تم باز آتے ہو ؟

اس آیت میں سات باتیں قابل ذکر ہیں ۔

1️⃣ - جوئے کو " انصاب - یعنی : آستانے " اور " ازلام - یعنی : پانسے " کے ساتھ ملایا گیا ہے جس سے جوے کی شدید حرمت کا پتہ چلتا ہے ۔
2️⃣ - اسے ناپاک کہا گیا ہے ۔
3️⃣ - اسے شیطانی عمل قرار دیا گیا ہے ۔
4️⃣ - اس سے اجتناب کا حکم دیا گیا ہے ۔
5️⃣ - اسے باہمی عداوت کا پیش خیمہ قرار دیا گیا ہے ۔
6️⃣ - اسے اللہ کی یاد سے غافل کرنے والی اور نماز و زکاة سے دور کر دینے والی چیز قرار دیا گیا ہے ۔
7️⃣ - طنزیہ اور سوالیہ انداز میں پوچھا گیا کہ آیا ان تمام تر قباحتوں کے باوجود بھی تم باز آتے ہو یا نہیں ؟
نیز دوسرے مقام پر اسے " بہت بڑا گناہ " قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ فرماتا ہے : " یسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیسِرِ قُلْ فِیهِمَا إِثْمٌ كَبِیرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا ". (البقرة : 219).
" لوگ تجھ سے شراب اور جوئے کے متعلق سوال کرتے ہیں، تو کہہ دے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ منافع بھی ہیں (مگر) ان کا گناہ ان کے منافع سے بڑھا ہوا ہے ".

یعنی : جوئے کے متعلق بھی قرآن کریم نے وہی ارشاد فرمایا جو شراب کے متعلق فرمایا ہے ۔ کہ اس میں کچھ منافع بھی ہیں ، مگر نفع سے اس کا نقصان و ضرر بڑھا ہوا ہے۔
فائدہ یہ ہے کہ جیت جائے تو بیٹھے بٹھائے ایک فقیر ، بدحال آدمی ایک ہی دن میں مالدار و سرمایہ دار بن جاتا ہے ۔
جبکہ اس کے نقصانات تو بے شمار ہیں ۔
مثلا :
- اس کے اندر ایک شخص کا نفع دوسرے کے ضرر پر موقوف ہے ۔ جیتنے والے کا نفع ہی نفع ، ہارنے والے کے نقصان ہی نقصان ۔

- اس کھیل کے ذریعے ایک کی دولت سلب ہو کر دوسرے کے پاس پہنچ جاتی ہے ۔ اس لیے یہ مجموعی حیثیت سے قوم کی تباہی اور انسانی اخلاق کی موت ہے کہ جس انسان کو نفع رسانی خلق اور ایثار و ہمدردی کا پیکر ہونا چاہیے وہ ایک خونخوار درندہ کی خاصیت اختیار کر لے اور دوسرے شخص کی موت میں اپنی زندگی ، اس کی مصیبت میں راحت ، اس کے نقصان میں اپنا نفع سمجھنے لگے، اور اپنی پوری قابلیت اس خود غرضی پر صرف کرے ۔

- اس کا عادی اصلی کمائی اور کسب سے عادۃ محروم ہوجاتا ہے، کیونکہ اس کی خواہش یہی رہتی ہے کہ بیٹھے بٹھائے ایک شرط لگا کر دوسرے کا مال چند منٹ میں حاصل کرے، جس میں نہ کوئی محنت نہ مشقت ۔

- اس میں بغیر کسی معقول معاوضہ کے دوسرے کا مال لے لیا جاتا ہے جسے قرآن نے ، " لاَ تَأ کُلُوْا اَمْوَالَـکُمْ بَیْنَـکُمْ بِالْـبَاطِلِ " لوگوں کے مال باطل طریقہ پر مت کھائو ". کہا ہے ۔

- اس کی وجہ سے اللہ کی یاد اور نماز سے غفلت ہوتی ہے،کیونکہ یہ گیم کھیلنے والا اس کے اندر اس قدر مشغول ہوجاتا ہے کہ اسے اللہ کے ذکر اور نماز کی طرف توجہ ہی نہیں ہوتی ۔

- اس کی وجہ سے انسان کی حرص اور لالچ میں اضافہ ہوتا ہے ۔

- وقت اور مال ضائع ہوتاہے ۔

- اس میں منہمک رہنے والے افراد زیادہ سے زیادہ نفع کمانے کی امید اور خسارے کے خوف کی وجہ سے راحت و آرام اور اطمینان و سکون سے محروم ہوجاتے ہیں ۔
اسی بنا پر ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محض جوا کا ارادہ کرنے والے کو بھی گناہ گار قرار دیا ہے ". وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ : تَعَالَ أُقَامِرْكَ. فَلْيَتَصَدَّقْ ".(صحيح البخاري | كِتَابٌ : الِاسْتِئْذَانُ | بَابٌ : كُلُّ لَهْوٍ بَاطِلٌ إِذَا شَغَلَهُ عَنْ طَاعَةِ اللَّهِ : 6301).
" جس شخص نے اپنے ساتھی کو کہا : آؤ جوا کھیلیں، تو وہ (بطور کفارہ) صدقہ کرے ".

خلاصہ کلام یہ " dream-11 " کا استعمال ناجائز اور اسے حاصل ہونے والا روپیہ حرام ہے ۔
اور بروز قیامت ہمارے قدم اس وقت تک ہل نہیں سکتے جب تک ہم ایک ایک روپئے کا حساب احکم الحاکمین رب العالمین کو نہ دے دیں گے، لَا تَزُولُ قَدَمُ ابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عِنْدِ رَبِّهِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ : ... و عَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَ أَنْفَقَهُ، ". ( سنن الترمذي | أَبْوَابُ صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالرَّقَائِقِ وَالْوَرَعِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. | بَابٌ : فِي الْقِيَامَةِ : 2416).
" آدمی کا پاؤں قیامت کے دن اس کے رب کے پاس سے نہیں ہٹے گا یہاں تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے پوچھ لیا جائے : ان میں سے ایک سوال اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کس چیز میں خرچ کیا ".
نیز اس حرام مال کو استعمال کرنے سے دعائیں اور بسا اوقات عبادتیں بھی اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا ہے ، ( دیکھئے ، صحيح مسلم : 1015).
نیز حرام مال کھانے اور اہل وعیال کو کھلانے کے بعد ان سے حلال کام کی توقع کرنا عبث ہے الا ماشاء اللہ ۔

اس کے علاوہ دیگر ایپس اور کمپنیوں جیسے (مائی ٹیم 11 (my team -11) مائی 11 سرکل (my 11 circle) فین فائٹ ( fan fight) وغیرہ کا بھی یہی حکم ہے ۔
 
Top