ذیشان خان

Administrator
کیا نبی ﷺ نے خود کبھی اذان دی تھی؟


نبی ﷺ سے خود اذان دینا ثابت نہیں ہے ۔اس سلسلے میں جو روایات مروی ہیں وہ ضعیف ہیں ۔
(1)پہلی روایت:
امام ترمذي رحمه الله (المتوفى279)نے کہا:
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الرَّمَّاحِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَانْتَهَوْا إِلَى مَضِيقٍ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَمُطِرُوا، السَّمَاءُ مِنْ فَوْقِهِمْ، وَالبِلَّةُ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ، " فَأَذَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَأَقَامَ، فَتَقَدَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَصَلَّى بِهِمْ يُومِئُ إِيمَاءً: يَجْعَلُ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ "[سنن الترمذي ت شاكر 2/ 266]۔
یہ حدیث ضعیف ہے ۔
علامہ البانی رحمہ اللہ نے تین اسباب کی بناپر اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے ۔ تفصیل کے لئے دیکھیں:
سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة (13/ 966) رقم 6434 ۔
ایک طرف تو یہ حدیث ضعیف ہے دوسری طرف مسند احمد میں یہ حدیث اسی سند کے ساتھ ہے اور اس میں یہ بات نہیں ہے کہ اذان اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود دی تھی بلکہ اس میں یہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ نے مؤذن سے اذان دلوائی تھی ، چنانچہ:
امام أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى241)نے کہا:
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مَيْمُونِ بْنِ الرَّمَّاحِ ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم انْتَهَى إِلَى مَضِيقٍ هُوَ وَأَصْحَابُهُ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَالسَّمَاءُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَالْبَلَّةُ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَأَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَاحِلَتِهِ فَصَلَّى بِهِمْ يُومِئُ إِيمَاءً يَجْعَلُ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ ، أَوْ يَجْعَلُ سُجُودَهُ اخْفَضَ مِنْ رُكُوعِهِ[مسند أحمد ط الميمنية: 4/ 173]
یہ حدیث سند ومتن کے ساتھ ترمذی والی ہی ہے اور ضعیف ہے لیکن اس میں یہ صراحت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ نے دوسرے سے اذان دلوائی تھی اس سے پتہ چلا کہ ترمذی میں اذان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اذان کو اس لئے منسوب کیا گیا ہے کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی اذان کا حکم دیا تھا۔
اور ایسا ہوتا ہے کہ کسی کے حکم سے کوئی کام ہو تو وہ کام حکم دینے والے کی طرف بھی منسوب کردیا جاتا ہے۔
(2)دوسری روایت :
امام ترمذي رحمه الله (المتوفى279)نے کہا:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذَّنَ فِي أُذُنِ الحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ بِالصَّلَاةِ»: [سنن الترمذي ت شاكر 4/ 97]۔
ترجمہ : عبیداللہ بن ابورافع اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو حسن بن علی کے کان میں نماز والی اذان دیتے ہوئے دیکھا جب فاطمہ نے حسن بن علی کو جنا۔
اس میں ایک راوی ہیں’’عاصم بن عبید اللہ بن عمر بن الخطاب العدوی المدنی جو متفق علیہ ضعیف ہیں۔(تھذیب التھذیب 5/42،43،میزان الاعتدال 2/353)۔
امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس کو حسن صحیح کہا ہے جو غیر مناسب ہے۔ امام ابن تیمیہ اور امام ابن القیم رحمھما اللہ نے اس پر سکوت اختیار کیا ہے،صاحب تحفہ رحمہ اللہ نے اس کو ضعیف گردانا ہے،شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ بھی اسے ضعیف ہی کہتے ہیں۔(الکلم الطیب 162،تحفہ المودود 16 اروا ء 4/400)۔
خلاصہ کلام یہ کہ سواری پہ اذان دینے والی اور کان میں اذان دینے والی دونوں حدیث ضعیف ہیں، لہذا یہ پتہ چلتا ہے کہ نبی ﷺ سے اپنی زندگی میں کبھی بھی اذان دینا ثابت نہیں ہے ۔
واللہ اعلم

محدث فورم سے حذف و اضافہ کے ساتھ​
 
Top