قارئین کرام : ہمارے ملک میں خصوصاً دیہی علاقوں میں درخت پر پھلوں کے بیچنے اور خریدنے کا رواج زمانہ قدیم سے چلا آرہا ہے ۔
لہذا مناسب معلوم ہوا کہ اس سلسلے میں اختصار کے ساتھ شرعی تعلیم کو بیان کر دیا جائے تاکہ لا علمی میں کوئی شخص حرام لین دین کا مرتکب نہ ہو ۔

درخت پر پھلوں سے مراد
اس سے مراد یہ ہے کہ پھل کو اتارنے سے پہلے درخت پر لگے ہی بیچ دیا جائے ۔
مثلا آم، کٹہل، امرود، لیموں، انگور، انار وغیرہ کو درخت پر سے توڑنے سے پہلے بیچ دیا جائے ۔
اسی طرح گیہوں، دھان، مسور، رائی، مرچ وغیرہ کو کٹائی سے پہلے ہی فروخت کر دیا جائے ۔

اس طرح کے لین دین کا شرعی حکم :

درخت پر لگے ہوئے پھلوں کی دو قسمیں ہیں ۔

1️⃣ - پہلی قسم : ابھی اس درخت میں پھل آیا ہی نہ آیا ہو ۔

مثلا : آم کے درخت میں صرف " پھول " ہی نکلے ہوں جسے ہم اپنی زبان میں " بورا " کہتے ہیں ۔
یا دھان اور چاول وغیرہ میں بالی نہ نکلا ہو ۔

تو ایسی صورت میں بیچنا اور خریدنا حرام اور ناجائز ہے ۔

2️⃣ - دوسری قسم : درخت میں پھل آگیا ہو ۔

اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں ۔

پہلی صورت : پھل یا کھیتی بلکل پک کر تیار ہو چکی ہو ۔

ایسی صورت میں خریدنا اور بیچنا درست اور جائز ہے

دوسری صورت : پھل یا کھیتی بالکل پک کر تیار نہ ہوئی ہو ۔

تو اس کی دو شکلیں ہو سکتی ہیں :

پہلی شکل : پھل یا کھیتی قابل استعمال ہو چکی ہو ۔ جیسے آم میں جالی پڑ جائے وغیرہ ۔

تو ایسی صورت میں اس کا لین دین جائز اور درست ہے ۔

دوسری شکل : پھل یا کھیتی استعمال کے قابل نہ ہوئی ہو ۔

تو اس کی بھی دو صورتیں ہو سکتی ہیں :

پہلی صورت : خریدنے والا اس شرط پر خریدے کہ وہ فورا پھل کو توڑ لے گا یا کھیتی کو کاٹ لے گا ۔

تو یہ جائز اور درست ہے ۔

دوسری صورت : خریدنے کے بعد اسے درخت پر لگا ہو چھوڑ دے اور جب وہ پک جائے یا قابل استعمال ہو جائے تب اسے توڑے یا کاٹے ۔

تو یہ ناجائز اور حرام ہے ۔

اور یہی شکل سب سے زیادہ معروف ہے اور عموماً اسی طرح سے لوگ کرتے ہیں کہ درخت پر پھل یا پھول آتے ہی اسے خرید لیتے ہیں اور پھر اس کی رکھوالی کرتے ہیں پھر جب استعمال کے قابل ہوتا ہے تب اسے توڑتے ہیں ۔

حالانکہ یہ صورت حرام ہے ۔

اس کے دلائل درج ذیل ہیں :

1️⃣ - " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَطِيبَ ". (صحيح البخاري : 2189).
" رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پکنے سے پہلے پھل کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے ".

2️⃣ - لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَلَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ ".( صحيح البخاري : 2183).
" (درخت پر لگے) پھل کو اس وقت تک نہ بیچو جب تک اس کا پکا ہونا نہ کھل جائے اور درخت پر لگی ہوئی کھجور کو خشک کھجور کے بدلے میں نہ بیچو ".

3️⃣ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهِيَ، فَقِيلَ لَهُ : وَمَا تُزْهِي ؟ قَالَ : " حَتَّى تَحْمَرَّ ". فَقَالَ : " أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ، بِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ ؟ "( صحيح البخاري : 2198).
" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو " زهو " سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے ۔ ان سے پوچھا گیا کہ کہ " زهو " کسے کہتے ہیں تو جواب دیا کہ سرخ ہونے کو ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہی بتاؤ ، اللہ تعالیٰ کے حکم سے پھلوں پر کوئی آفت آ جائے، تو تم اپنے بھائی کا مال آخر کس چیز کے بدلے لو گے؟

4️⃣ - نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى تُشَقِّحَ. فَقِيلَ : وَمَا تُشَقِّحُ ؟ قَالَ : تَحْمَارُّ وَتَصْفَارُّ وَيُؤْكَلُ مِنْهَا ". ( صحيح البخاري : 2196).
" نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کا " تشقح‏ " سے پہلے بیچنے سے منع کیا تھا ۔ پوچھا گیا کہ " تشقح‏ " کسے کہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : " مائل بہ زردی یا مائل بہ سرخی ہونے کو کہتے ہیں کہ اسے کھایا جا سکے ".
5️⃣ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ ، وَعَنِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ، وَيَأْمَنَ الْعَاهَةَ ؛ نَهَى الْبَائِعَ، وَالْمُشْتَرِيَ ". ( صحيح مسلم : 1535).
" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کھجوروں کو زرد یا سرخ ہونے سے پہلے فروخت کر دیا جائے ، یا غلے کو جبکہ وہ بالیوں میں ہو،حتیٰ کہ سفید ہو جائیں اور آفت زدگی سے محفوظ ہو جائیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے معاملے سے فروخت کرنے والے اور خریدار دونوں کو منع فرمایا ہے ".

6️⃣ - أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ، وَعَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ ". ( سنن أبي داود : 3371).
" نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوروں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے حتیٰ کہ سیاہ ہو جائیں اور کھیتی کو بیچنے سے روکا ہے حتیٰ کہ دانے سخت ہو جائیں ".

درخت پر پھل کے قابل استعمال ہونے کا مطلب کیا ہے؟؟

جواب : مطلب یہ کہ جب وہ کھانے کے قابل ہو جائیں ۔
چنانچہ : "
☄ - حتى يبدو صلاحه : "جب وہ پکنا شروع ہو"
☄ - حتى يطيب : " یہاں تک کہ اس میں ذائقہ آجائے یعنی : وہ کھانے کے قابل ہو جائے"۔
☄ - حتي يسود : " یہاں تک کہ انگور کالے ہو جائیں ۔
☄ - حتى يشتد : " یہاں تک کہ دانے سخت ہو جائیں "
☄ - حتى تشقح : "یہاں تک کہ پھل سرخی مائل یا زرد ہو جائے "۔
☄ - حتى يطعم : " یہاں تک اس کو کھایا جا سکے"۔
وغیرہ جیسے الفاظ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ پھل یا اناج کھانے کے قابل ہو جائیں ۔

نیز ان کے کھانے کے قابل ہونے کی ابتدا مختلف پھلوں میں مختلف ہے ۔
- بعض رنگ کے بدلنے سے کھانے کے قابل ہوجاتے ہیں ۔ جیسے : انجیر ، انگور ، امرود اور آم وغیرہ ۔

- بعض کو الٹ پلٹ کر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے ۔ جیسے : تربوز کیونکہ رنگ سے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔
- بعض بڑا ہو جانے کے بعد کھانے کے لائق ہو جاتے ہیں ۔ جیسے کٹہل ۔

- بعض پھول کے پھل میں تبدیل ہونے سے ہی کھانے کے قابل ہوتے ہیں ۔ جیسے کھیرا، ساگ وغیرہ ۔

اس کی وضاحت مسلم کی اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں ہے کہ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ، حَتَّى يَأْكُلَ مِنْهُ، أَوْ يُؤْكَلَ ". ( صحيح مسلم : 1537).
" رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو کھانے کے قابل ہونے سے پہلے فروخت کرنے سے منع کیا ہے"۔

☄بعض علاقوں میں سال سے زیادہ مدت کے لئے درختوں پر پھلوں کو بیچ دیا جاتا ہے جو کہ قطعا درست نہیں ہے ۔
جیسا کہ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ ... الْمُعَاوَمَةِ ".( صحيح مسلم : 1536).
" رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع معاومہ سے منع فرمایا ہے ۔
معاومہ یہ ہے کہ ایک سال سے زیادہ مدت کے لئے ایک ہی عقد میں کھجوروں کا ان کے درختوں پر سودا کیا جائے ". ( الروضة الندية : 2/203).
وہ اس وجہ سے کہ اس میں دھوکہ ہے کیونکہ درخت کے اوپر پھل کی کوئی گارنٹی نہیں ہے ۔
ممکن ہے کہ پھل آئے ہی نہ ۔
یا پھل تو آئے مگر بیماری کی وجہ ہے خراب ہو جائے ۔
یا آندھی اور تیز ہوا کی وجہ سے گر جائے ۔
 
Top