ذیشان خان

Administrator
مولانا مودودی - رحمہ اللہ - کے نزدیک حدیثِ رسول - صلی اللہ علیہ وسلم - کا مقام!

🖊 ابو تقی الدین رحیمی حفظہ اللہ

چند روز قبل ایک صاحب نے مجھ سے کہا : "کیوں آپ لوگوں کو عام اور سادہ فہم تفسیر سے بد ظن کر رہے ہیں".
ان کی مراد مولانا مودودی کی تفسیر "تفہیم القرآن" تھی.
آج میں پھر اسی تفسیر سے ایک مثال پیش کر رہا ہوں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ مولانا کی یہ تفسیر کتنی سادہ اور عام فہم ہے!
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {يَوْمَ يُكۡشَفُ عَنۡ سَاقٍ وَّيُدۡعَوۡنَ اِلَى السُّجُوۡدِ فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَۙ} [القلم :42]
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے آیت کا ترجمہ یوں کیا ہے :"جس روز سخت وقت آ پڑے گا اور لوگوں کو سجدہ کرنے کے لئے بلایا جائے گا تو یہ لوگ سجدہ نہ کر سکیں گے ".
پھر اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
"اصل الفاظ ہیں {يوم يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ} جس روز پنڈلی کھولی جائے گی "، صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت کہتی ہے کہ یہ الفاظ محاورے کے طور پر استعمال ہوئے ہیں.
عربی محاورے کے مطابق سخت وقت آ پڑنے کو "کشف ساق" سے تعبیر کیا جاتا ہے، حضرت عبداللہ بن عباس نے بھی اس کے یہی معنی بیان کئے ہیں اور ثبوت میں کلام عرب سے استشہاد کیا ہے، ایک اور قول جو ابن عباس اور ربیع بن انس سے منقول ہے اس میں "کشف ساق" سے مراد حقائق پر سے پردہ اٹھانا لیا گیا ہے.
اس تاویل کی رو سے معنی یہ ہونگے کہ جس روز تمام حقیقتیں بے نقاب ہو جائیں گے اور لوگوں کے اعمال کھل کر سامنے آجائیں گے".
وضاحت :
1 - مذکورہ عبارت مولانا مودودی کی تفسیر "تفہیم القرآن" سے ماخوذ ہے!، مولانا نے آیت {يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ} کی تفسیر میں بعض صحابہ اور تابعین کے بعض اقوال پیش کئے ہیں، اس کا خلاصہ یہ ہے :
أ - پہلا قول:
"كشف ساق" سے قیامت کے دن کی شدت و سختی مراد ہے.
ب - دوسرا قول :
"کشف ساق" سے مراد حقائق پر سے پردہ اٹھانا ہے.
2 - اس آیت کی تفسیر میں آپ - صلی اللہ علیہ وسلم - سے بخاری ومسلم اور دیگر کتب حدیث میں متعدد حدیثیں بھی وارد ہیں!
أ - مثلاً امام بخاری نے "صحیح بخاری" کے اندر "کتاب التفسير" میں "باب يكشف عن ساق" کے تحت حضرت ابو سعید خدری کی حدیث لائے ہیں :
"‏قال رَسُولُ الله - ﷺ - يكشِفُ رَبُّنا عن ساقِه، فيسجُدُ له كلُّ مؤمنٍ ومُؤمنةٍ ويبقى كلُّ من كان يسجُدُ في الدُّنيا رياءً وسُمعةً فيذهَبُ لِيَسجُدَ، فيعودُ ظهرُه طبقًا واحدًا".
"یعنی قیامت والے دن اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا(جس طرح اس کی شان کے لائق ہے)تو ہر مومن مرد اور عورت اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں گے، البتہ وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو دنیا میں دکھلاوے اور شہرت کے لئے سجدہ کرتے تھے وہ سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی ریڑھ کی ہڈی کے منکے، تختے کے طرح ایک ہڈی بن جائے گی جس کی وجہ سے ان کے لئے جھکنا ناممکن ہو جائے گا ". [صحيح البخاري رقم الحدیث :4919]
ب - صحیح بخاری ہی میں ایک اور مقام پر ہے:
"ہر قوم جس کی پرستش کرتی تھی اس کے پیچھے چلی جائے گی، صلیب والے صلیب کے پیچھے، بتوں والے بتوں کے پیچھے اور دوسرے معبودوں والے اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے چلے جائیں گے، صرف وہ لوگ رہ جائیں گے جو صرف اللہ کی عبادت کرتے تھے، خواہ نیک ہوں یا بد وہ اللہ تعالیٰ کا انتظار کر رہے ہوں گے، اللہ ان سے پوچھے گا :
"هل بينكم وبينه آية تعرفونها؟ فيقولون الساق فيكشف عن ساقِه فيسجُدُ له كل مومن"
"کیا تمہیں ان کی کوئی نشانی معلوم ہے؟ وہ کہیں گے کہ "ساق" (پنڈلی) پھر اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کو کھولے گا اور ہر مومن اس کے لئے سجدے میں گر جائے گا ". [صحيح بخاری، رقم الحدیث :7439]
مندرجہ بالا حدیث میں صاف الفاظ میں موجود ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا.
3 - یہ حدیث صحیح بخاری کے علاوہ حدیث کی دوسری بہت سی کتابوں میں موجود ہے، اتنی اعلی درجے کی صحیح سند کے ساتھ خود رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - سے آیت کی تفسیر آنے کے بعد کسی اور تفسیر کی نہ ضرورت رہتی ہے اور نہ گنجائش!
4 - کیا یہ اتفاق ہے یا مولانا نے آیت کی تفسیر میں جان بوجھ کر حدیثِ رسول کو نظر انداز کیا ہے؟!
لگتا ہے مولانا نے جان بوجھ کر مذکورہ آیت کی تفسیر میں حضرت ابوسعید الخدری - رضی اللہ عنہ - کی حدیث کو نہیں لایا ہے، اس لئے کہ اس سے ان کے عقیدے پر چوٹ پڑتی! اور انہوں نے اپنی تفسیر میں یہی منہج اختیار کیا ہے، میں ثبوت کے طور پر اور بھی کئی دلائل پیش کر سکتا ہوں.
5 - یہاں بعض صحابہ (جیسے ابن عباس) وتابعین (جیسے مجاہد ،عکرمہ وغیرہ) نے "كشف ساق" سے مراد قیامت کی ہولناکیاں لی ہیں، یہ تفسیر اگرچہ درست ہے اور لغت عرب میں یہ محاورہ استعمال بھی ہوتا ہے، لیکن پہلی تفسیر (یعنی قیامت والے دن اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا) میں قرآن کے صریح الفاظ کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور یہ تفسیر اس ذات گرامی نے کی جس پر قرآن نازل ہوا تھا، اس ئے یہی مقدم ہے.
6 - اگر آپ غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ دونوں تفسیروں میں کوئی تعارض نہیں، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی پنڈلی بھی ظاہر ہوگی اور اس دن کی شدت میں کوئی شبہ نہیں.
شيخ عبد الرحمن بن ناصر السعدی مذکورہ آیت کی تفسیر میں لکھا ہے :
"أي :إذا كان يوم القيامة، وانكشف فيه من القلاقل والزلازل والأهوال ما لايدخل تحت الوهم، وأتى الباري لفصل القضاء بين عباده ومجازاتهم فكشف عن ساقه الكريمة التي لايشبهها شيء....".
"یعنی جب قیامت کا دن ہوگا اور ایسے ایسے زلزلے اور ہولناکیاں ظاہر ہوں گی، جو وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتیں، باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کے لئے تشریف لائے گا، پس وہ اپنی مکرم پنڈلی کو ظاہر فرمائے گا، جس سے کوئی چیز مشابہت نہیں رکھتی".
7 - خود ابن عباس - رضی اللہ عنہما - نے اللہ تعالیٰ کی پنڈلی ظاہر ہونے کا کبھی انکار نہیں کیا اور نہ دیگر صحابہ میں سے کسی نے ان الفاظ کا انکار کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے متعلق اس سلسلے میں قرآن یا حدیث میں آئے ہیں.
8 - شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے قول کے مطابق پورے قرآن میں یہی ایک آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی صفت کے بارے میں صحابہ کرام میں اختلاف پایا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں آیت کریمہ میں چونکہ یہ صراحت نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پنڈلی ظاہر ہوگی بلکہ صرف پنڈلی کا لفظ ہے(یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف اضافت کے بغیر ہے)، اس لئے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کا مفہوم یہ لیا کہ "کشف ساق" سے اس دن کی شدت مراد ہے، مگر حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں صراحت کے ساتھ یہ وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پنڈلی ظاہر ہوگی، اس لئے مقدم وہی مفہوم ہوگا جو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا، اگرچہ قیامت کے دن کی شدت بھی اپنی جگہ حقیقت ہے!
 
Top