دھوم سے جشنِ نیا سال منانے والو!
روشنی کیلئے گھر اپنا جلانے والو

(🖋صفی الرحمن ابن مسلم بندوی فیضی)

دوستو! یاد ہوگا2020 کی آمد کا جشنِ عیش و طرب بھی!!!
یاد ہوگا 31 دسمبر 2019 کی وداعی رات تھی، 12بجتے ہی آسمان چنگاریوں سے بھر گیا، پٹاخوں کی آواز سے کان پھٹے جارہے تھے، لڑکے لڑکیاں عیش و طرب کی مسحور کن مستیوں میں محو تھے، کیا مسلم، کیا غیر مسلم سب رب کو بھول کر، قانون الہی کو توڑ کر، اس کی پکڑ سے بےخبر، اس کی نافرمانیوں میں مبتلا تھے، 2020کے استقبال سے شوشل میڈیا بھرا پڑا تھا، مبارکبادیوں کا گیت جھوم کر گایا جا رہا تھا۔
چلو 2020 آ بھی گیا، رب کی سخت پکڑ کے ساتھ، کرونا جیسے مہلک اور ان دیکھے وائرس کے عذاب کے ساتھ، آزمائش و امتحان سے بھرا ہوا، پورا سال غم کا لبادہ اوڑھے ہوئے، امیر سے لے کر غریب تک، فقیر سے لے کر بادشاہ تک سب کو کمزوری، بے کسی، اور بے بسی کا احساس دلاتے ہوئے، سائنس و ٹیکنالوجی کو چڑھاتے ہوئے، جو جہاں ہے وہیں قید ہو کر رہ گیا، خلاؤں میں اڑنے والے جہاز زمین پہ کھڑے اپنی اڑان بھرنے کو ترستے رہے، ٹرینوں اور بسوں سے راہیں سنسان ہو گئیں، لوگوں کے سامنے قیامت کا منظر رقص کرنے لگا، اپنے وطن اور اہل و عیال سے دور لوگوں نے، پیدل، سائیکل سے، بائیک سے، ہزاروں کلومیٹر کے پُر خطر اور پُر مشقت راستے طے کرکے اپنے اہل و عیال تک پہنچنے کو ترجیح دیا، کتنو نے تھکن اور بھوک سے چور ہو کر راستے ہی میں دم توڑ دیا، کتنوں نے ریل کی پٹریوں کو تکیہ بنا کر اپنی تھکان دور کرنا چاہی مگر ریل ہی نے آکر ان کی جان لے لی، کتنی حاملہ عورتوں کے حمل گر گئے۔
اے لوگو! اے مسلم نوجوان بچے اور بچیوں! کیا اس سال بھی نئے سال پہ رب کی نافرمانیوں کے تانے بانے بُن رہے ہو؟
کیا اس سال بھی نئے سال کا جشن شراب و شباب ناچ و گانے کی مستی میں منانا چاہتے ہو؟
مسلمانو! کیا تم اب بھی ہوش کے ناخن نہیں لو گے؟
کیا نبی کے زمانے میں، صحابہ کے زمانے میں، تابعین کے زمانے میں نیا سال نہیں آیا؟
اگر آیا اور بارہا آیا۔
تو کیا اس طرح کا جشن نئے سال کے موقع سے ہمارے سلف صالحین نے منایا؟
نہیں ہرگز نہیں
اے امت محمد! اے اسلام کا دم بھرنے والو! آو رب کو منا لو!
رب کو راضی کر لو!
بیماریاں اللہ کی طرف سے ہیں، موت بر حق ہے، اس کا کوئی علاج نہیں ہے، نہ ہی اس سے کسی کو چھٹکارا ہے۔
مگر ۔۔۔۔۔سعادت مند لوگ وہی ہیں جنھیں موت آئے اس حال میں کہ رب ان سے خوش ہو۔
وہ رب سے خوش ہوں۔
رب کی فرمانبرداری اور اطاعت گزاری میں زندگی بسر کی ہو۔
اسوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زندگی کا وطیرہ بنایا ہو۔
اسلام کی تعلیمات کو سر آنکھوں پر سجایا ہو۔
بحالت ایمان موت کی آغوش میں جا سویا ہو۔
رب کے پاس اس کی مغفرت کا پروانہ رکھا ہوا ہو۔
جنت کا محل اس کے لئے الاٹ کر دیا گیا ہو۔
اللہ ہمیں ایسے ہی باسعادت لوگوں میں سے بنائے۔ آمیں
 
Top