ذیشان خان

Administrator
توحيد أسماء و صفات: بنیادی معلومات

تحریر: حافظ عبدالرشید عمری

توحيد کی تین اقسام(توحيد الوہیت، توحيد ربوبیت اور توحید أسماء و صفات) کو قرآن و سنت کے نصوص کے استقراء(گہرے جائزہ) سے علماء اہل سنت و جماعت نے بیان کیا ہے،
بعض گمراہ فرقے اور اہل سنت و جماعت کی طرف منسوب بعض اہل علم بھی توحيد أسماء و صفات کے باب میں لغزشوں کا شکار ہوئے ہیں،
اہل سنت و جماعت کے علماء کرام اللہ تعالٰی کے لئے وہ سارے أسماء و صفات ثابت کرتے ہیں،
جو اللہ تعالٰی نے اپنے لئے خود بیان کئے ہیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالٰی کے لئے بیان کئے ہیں،
لیکن ان کے پاس یہ قاعدہ کلیہ ہے:
ہم اللہ کے أسماء و صفات میں نہ ہی تحریف و تعطیل کے مرتکب ہوں گے
اور نہ ہی تکییف و تمثيل کے مرتکب ہوں گے،
اور بعض علماء اسماء و صفات کے باب میں مذکورہ تنزیہی الفاظ کے ساتھ ان دو الفاظ کا استعمال بھی کرتے ہیں:
ہم اللہ کے أسماء و صفات کو مخلوق کے أسماء و صفات کے ساتھ تشبیہ نہیں دیں گے ،
اور اللہ کے اسماء و صفات میں موجود معانی کا فہم سلف(فہم صحابہ،تابعین اور تبع تابعین رحمهم اللہ اجمعین) سے انحراف کرتے ہوئے بےجا تاويل بھی نہیں کریں گے۔

اللہ کے أسماء حسنی توقیفی ہیں ،
یعنی ان کا ثبوت قرآن و سنت کے نصوص پر موقوف ہے،
اللہ تعالٰی کے لئے قرآن و سنت میں جو افعال ثابت ہیں،
ہر فعل سے اللہ کا اسم مشتق نہیں ہو سکتا ہے
بطور مثال الله کے لئے فعل "ینزل "
"یأتي" اور جاء کا استعمال ہوا ہے
تو ان افعال سے اللہ کے لئے "نازل"
"آتي" اور "جائي" کے نام مشتق نہیں کر سکتے ہیں،
کیوں کہ اللہ تعالٰی کے أسماء حسنی توقیفی ہیں
یعنی اللہ تعالٰی کے أسماء حسنی قرآن و سنت سے ثابت ہوں گے۔
بعض افعال اللہ کے لئے مطلق استعمال ہوئے ہیں،
جیسے الله الذي خلقكم ثم رزقكم ثم يميتكم ثم يحييكم... إلى آخر الآية.
تو مطلق أفعال سے مطلق صفت ثابت ہوگی،
اور بعض افعال اللہ کے لئے مقید استعمال ہوئے ہیں،
تو مقید افعال سے اللہ کے لئے مقید صفت ہی ثابت ہوگی،
جیسے "و مكروا و مكر الله و الله خير الماكرين" وغيره.
لیکن یہ بھی قاعدہ ذہن نشین ہونا چاہئے کہ اللہ کے لئے استعمال ہونے والے افعال چاہے مطلق ہوں یا مقید ہوں،
اللہ کے لئے وارد افعال سے اللہ کے أسماء حسنی مشتق نہیں کئے جا سکتے ہیں،
بلکہ اللہ کے لئے أسماء حسنی ثابت کرنے کے لئے قرآن و سنت کے نصوص ضروری ہیں
یعنی قرآن و سنت کے نصوص ہی سے أسماء حسنی ثابت ہوں گے۔

اللہ تعالٰی کے أسماء و صفات میں منھج سلف کے اتفاق کو سمجھنا ہو تو " اللہ کے عرش پر مستوی ہونے کے مسئلہ" میں سلف کے اس متفق علیہ قول کو پیش نظر رکھیں:
"اعلام السنة المنشورة لاعتقاد الطائفة الناجية المنصورة للعلامة حافظ بن أحمد الحكمي رحمه الله" نے اپنی اس مایہء ناز کتاب کے سوال نمبر (67)میں کہتے ہیں:
س: ماذا قال أئمة الدين من السلف الصالح في مسألة الإستواء ؟
ج: قولهم بأجمعهم رحمهم الله تعالى:
الإستواء غير مجهول، و الكيف غير معقول، و الإيمان به واجب،و السؤال عنه بدعة، و من الله الرسالة، و على الرسول البلاغ، و علينا التصديق و التسليم.
و هكذا قولهم في جميع آيات الأسماء و الصفات و أحاديثها: "آمنا به كل من عند ربنا" [ آل عمران:٧] "آمنا بالله و اشهد بأنا مسلمون" [آل عمران:٥٢]

شیخ صالح بن عبدالله بن حمد العصيمي حفظه الله نے مذکورہ کتاب کی شرح مختلف مجلسوں میں(38) کیسٹوں میں بیان کی ہے۔
اس سوال کے جواب کی شرح میں شیخ موصوف کہتے ہیں: سلف سے منقول سات جملوں میں چار جملے ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور امام مالک اور ربیعہ الرأي رحمهما اللہ سے منقول ہے
لیکن چار جملوں پر مشتمل یہ امام مالک رحمہ اللہ سے منقول ہونے کے اعتبار سے زیادہ معروف و مشہور ہے۔
بقیہ تین جملوں پر مشتمل قول: و من الله الرسالة،و على الرسول البلاغ، و علينا التصديق و التسليم.
یہ محمد بن شھاب الزھری رحمہ اللہ سے منقول ہے۔
اور سوال کے اخیر میں مؤلف رحمہ اللہ نے قاعد کلیہ کے طور پر اپنا قول پیش کیا ہے ۔
و هكذا قولهم...إلى آخره.

أسماء و صفات کے اہم قواعد کو سمجھنے کے لئے شیخ ابن عثيمين رحمہ اللہ کی "القواعد المثلى" کتاب کا مطالعہ زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
أسماء و صفات کے باب میں لکھی گئی بعض متقدمین اور متأخرين سلفی علماء کرام کی کتابوں کا مطالعہ بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
خصوصی طور پر شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی" عقيدهء واسطیہ" اور اس کی شرح شیخ ابن عثيمين رحمہ اللہ نے کی ہے
اس کتاب کا اور شرح کا مطالعہ اہل علم کے لئے بہت مفید ثابت ہوگا۔

شیخ حافظ بن احمد الحکمی رحمہ اللہ کی عقيدهء اہل سنت و جماعت پر مشتمل کتاب: أعلام السنة المنشورة لاعتقاد الطائفة الناجية المنصورة " کا اردو ترجمہ بھی ہندوستان سے شائع ہوا ہے
مترجم: مشتاق احمد کریمی حفظہ اللہ ہیں
اور کتاب کے تین چوتھائی حصہ پر نظر ثانی اور تصحیح شیخ ڈاکٹر محمد لقمان سلفی مدنی رحمہ اللہ نے کی ہے
اور کتاب کے آخری ایک چوتھائی حصہ پر نظر ثانی اور تصحیح شیخ عبدالمنان عبداللطيف مدنی حفظہ اللہ نے کی ہے۔
اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ ارکان ایمان سے متعلق تمام اہم عقائد کو سوالات و جوابات کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔
یہ کتاب دو سو تیئیس (223) سوالات اور ان کے جوابات پر مشتمل ہے۔
اور ہر سوال کا جواب قرآن و سنت کے دلائل سے دیا گیا ہے۔
یہ کتاب ہندوستان کے عربی مدارس و جامعات میں طلبہ کے علمی معیار کے مطابق بطور نصاب پڑھائی جا سکتی ہے۔
اور عوام و خواص کے درمیان بھی اس کتاب سے روزانہ پابندی سے عقیدہ سے متعلق دروس دئے جا سکتے ہیں۔
 
Top