ذیشان خان

Administrator
امام بخاری بحیثیتِ انسان احادیث جمع کرنے میں غلطی کر سکتے تھے تو پھر ہم ان کی تمام احادیث کو صحیح کیوں مانیں؟

از قلم: ابو احمد کلیم الدین یوسف

محترم قارئین: صحيح بخاری کے خلاف محاذ آرائی کافی زمانے سے چل رہی ہے، ہر زمانے میں اہل سنت والجماعت کے مخالفین نے صحیح بخاری کو مشکوک کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے، اور یہ سلسلہ آج بھی جاری وساری ہے.

قارئین کرام: اگر کوئی کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انسان تھے، اور ہر انسان غلطی کر سکتا ہے، تو پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات کیوں مانیں؟
کیا یہ ماننے والی بات ہے؟
تمام مسلمان بیک زبان ہو کر ایسے اعتراض کرنے والے شخص کو مجنون کہیں گے.
اسی طرح اگر کوئی یہ کہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین بھی ہماری طرح انسان ہی تھے، ان سے بھی غلطی ہو سکتی تھی، تو ہم ان کی ہر بات کیوں مانیں؟
مطلب یہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو احادیث ہم تک نقل کی ہیں ہم ان کی ہر نقل کردہ حدیث کو کیوں مانیں؟
مذکورہ دونوں اعتراض کے طرز پر تسیرا اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ امام بخاری انسان تھے ان سے احادیث جمع کرنے میں غلطی ہو سکتی تھی، تو پھر ہم ان کی تمام احادیث کو صحیح کیوں مانیں؟

قارئین کرام: پہلا اعتراض باطل ہے کیونکہ اللہ رب العالمین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معصوم عن الخطأ بنایا ہے.
دوسرا اعتراض بھی باطل ہے کیونکہ اللہ رب العالمین اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے طریقہ عمل اور فہمِ دین کو معیار بنایا ہے.
ملاحظہ ہو سورہ نساء، آیت (115)، اور جامع ترمذی، حدیث (2611).
اور اسی طریقے سے تیسرا اعتراض بھی باطل ہے کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری امت کے اجماع واتفاق کو معصوم قرار دیا، یعنی اگر امت کسی ایک چیز کے صحیح ہونے پر اتفاق کرلے تو وہ صحیح ہے کیونکہ کہ پوری امت بالخصوص امت کے علماء ربانین گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتے.
ملاحظہ ہو مسند احمد (27267).

پتہ یہ چلا کہ جس طرح اللہ رب العالمین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معصوم عن الخطا بنایا، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی فہم اور ان کے طریقہ عمل کو معیار بنایا، اسی طرح اس امت کے اجماع کو بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی معصوم اور حجت بنایا ہے.
چنانچہ امتِ مسلمہ کے وہ علماء جن کی عقل وخرد، فہم وفراست، ذہانت وفطانت، علم وعمل، زہد و ورع، تقوی وطہارت، خوف وخشیت، صدق وثقاہت اور دیانت وامانت کی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ پوری دنیا قائل ہے، اور ان کی مثال دیتی ہے، ان میں سے ہر ایک نے الگ الگ زمانے میں بخاری کی احادیث کے صحیح ہونے پر اجماع نقل کیا ہے.
کیا پوری امت کے باوقار علماء نے آنکھ بند کرکے امام بخاری کی غلطیوں کو صحیح مان لیا؟
کیا ان کے پاس حدیث کی صحت وضعف کو پرکھنے کا وہ معیار نہیں تھا جو آج کے محککین کے پاس ہے؟
یا پھر مذکورہ علماء (نعوذ باللہ) اسلام میں بطور دسیسہ کار داخل ہوئے تھے کہ دین کے نام پر ان احادیث کو صحیح قرار دے کر شریعت کی اصل شکل مسخ کردیں؟
بقول بعض مفکرین جب دین کے نام پر صحیح بخاری کی احادیث کا اضافہ کیا جا رہا تھا تو کیا امام احمد، امام ابن معین، امام علی بن المدینی، اور اس زمانے میں موجود تمام ائمہ حدیث نے خاموشی کے ساتھ امام بخاری کی غلطیوں پر سر خم تسلیم کر دیا؟
ان کے زمانے کے بعد آنے والے تمام محدثین، مجتہدین، فقہاء اور ائمہ کرام بھی امام بخاری کی غلطیوں کو تسلیم کرنے میں اپنے سے ماقبل لوگوں کی ہاں میں ہاں ملاتے گئے؟
یعنی آج تک ایک بھی ایسا تقوی شعار اور خشوع وخضوع والا عالمِ حدیث پیدا نہیں ہوا جو امام بخاری رحمہ اللہ کی غلطیوں کو طشت از بام کرنے کی جسارت کر سکے؟
لیکن تقریباً ہزار سال بعد جب سے ابو ریہ، محمد عبدہ، مودودی، امین احسن اصلاحی، غامدی اور راشد شاذ جیسے لوگ وجود میں آئے تب سے امام بخاری اور دیگر محدثین کی غلطیوں کا پتہ چلا؟
ان سے قبل امت کے تمام افراد امام بخاری کی انہی غلط سلط احادیث پر عمل کرتے رہے؟
مطلب اللہ رب العالمین ایک ہزار سال تک اس امت کو امام بخاری کی غلط باتوں پر عمل کرواتا رہا، اور امت میں ایک بھی ایسا رجل رشید پیدا نہیں کیا جنہیں امام بخاری اور ان کی غلطیوں میں ساتھ دینے والے ائمہ کی غلطیوں کا ادراک ہو سکے؟
اور ہزار سال کے بعد اللہ رب العالمین نے ایسے افراد پیدا کئے جو ائمہ حدیث کی غلطیوں سے ملت اسلامیہ کو آگاہ کر سکیں؟؟؟
ایسی عقلمندی کی بات تو آج تک نہ سنی گئی اور نا ہی دیکھی گئی.
البتہ اسی سے ملتی جلتی بات ایک بدبخت نے کی تھی جسے ہم ملعون مرزا غلام احمد قادیانی کے نام سے جانتے ہیں، مرزا اپنے آپ کو ظلی نبی کہا کرتا تھا، اور اس کیلئے وہ بہت سی بودہ دلیلیں بھی پیش کیا کرتا تھا، ان کے ماننے والوں سے ہم اور ہمارے علماء ہمیشہ سے ایک سوال کرتے رہے ہیں کہ تقریباً تیرہ سو سے چودہ سو سال کے طویل عرصے میں صرف میرزا کذاب ہی ایسا شخص تھا جو نبوت کیلئے موزوں تھا؟
ٹھیک اسی طرح کیا ایک ہزار سالوں میں صرف یہی گنتی کے چند افراد ہیں جنہیں بخاری کی احادیث غلط لگتی ہیں؟

قارئین کرام: امام بخاری رحمہ اللہ پر اعتراض کرنے والوں سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر امام بخاری کا انسان ہونا ان کی نقل کردہ احادیث کو غلط ٹھہراتا ہے تو پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا انسان ہونا ان کی نقل کردہ قرآنی آیات کو غلط کیوں نہیں ٹھہرا سکتا؟
دونوں کے مابین کیا فرق ہے؟
ایک نقل کو آپ صحیح مان رہے ہیں اور دوسری نقل کو غلط ٹھہرا رہے ہیں، جب کہ دونوں نقل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے واسطے سے ہی آرہی ہے؟
اس لئے اگر آپ حدیث پر اعتراض کریں گے تو خود بخود قرآن پر یہ اعتراض قائم ہوگا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین بھی انسان ہیں، اور ان سے یقینا غلطی کا امکان ہے، تو پھر آپ کے اصول کے مطابق قرآنی آیات میں بھی غلطی ہوئی ہوگی، تو ہم ان کی ہر نقل کردہ آیات کو قرآن کا حصہ کیسے مانیں؟
یہ مفروضہ باتیں چھوڑ کر حقیقت پسندی کی دنیا میں آئیں، علوم حدیث کو پڑھیں، اس میں غور و فکر کریں، اسے سمجھیں، اور فیصلہ کریں، پھر آپ کہیں کہ علم حدیث کے فلاں اصول کی امام بخاری نے فلاں جگہ مخالفت کی ہے، وہلم جرا.
اگر آپ غالب، میر، اقبال، حسرت اور حالی وغیرہ کی کتابوں کو پڑھ کر محدث بننا چاہتے ہیں، اور علم حدیث کے ماہرین کو غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کی مثال بالکل اسی شخص کی سی ہے جو سائیکل چلانا سیکھ کر کہتا ہو کہ جب میں سائیکل چلا سکتا ہوں تو ہوائی جہاز کیوں نہیں اڑا سکتا؟
اسی طرح معتزلہ وغیرہ کے افکار کو پڑھ کر امام بخاری رحمہ اللہ پر اعتراض کرنا بالکل سابقہ مثال کے مانند ہے، کیوں کہ معتزلہ اور روافض عقائد میں ہم مشرب اور ہم پیالہ ہیں، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے انہیں ازلی دشمنی ہے، بلکہ وہ ان نفوس قدسیہ کا استہزاء بھی کرتے ہیں.

محترم قارئین: اگر امام بخاری اور دیگر ائمہ رحمہم اللہ انسان ہونے کی وجہ سے غلطی کر سکتے ہیں تو پھر ان پر اعتراض کرنے والے تو اپنے اعتراض میں بدرجہ اولی غلطی پر ہو سکتے ہیں، کیوں کہ وہ بھی انسان ہیں، اور ان سے غلطی کا زیادہ امکان ہے، بلکہ سو فیصد امکان ہے، تو پھر ہم کیسے مان لیں کہ آپ کا اعتراض مبنی بر حقیقت اور درست ہے؟

لٹریچر پڑھ کر علم طب کے ماہرین اور ان کے تجویز کردہ نسخے پر اعتراض کرنا یقینا مضحکہ خیز ہے، اسی طرح بعض اردو داں، عرب ادباء، اور معتزلی افکار کے حاملین کو پڑھ کر امام بخاری پر اعتراض کرنا بھی مضحکہ خیز امر ہے.

آخری بات: اگر ہم صحیح بخاری کی احادیث کا دفاع کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی وجہ سے اس کا دفاع کرتے ہیں، بلکہ ہم اس کا دفاع احادیث رسول ہونے کی وجہ سے کرتے ہیں، امام بخاری بالکل بھی معصوم نہیں تھے، اور نہ ہی مقدس تھے، لیکن انہوں نے احادیث کو قبول کرنے کی جو شرط رکھی تھی اس معیار پر وہی حدیث اتر سکتی ہے جو بالکل صحیح ہو، اس لئے تمام علماء کرام نے ان کی جمع کردہ احادیث کو صحیح کہا ہے، اور آج تک کہتے آرہے ہیں.
اس بات کو ایک مثال سے سمجھیں: حساب کرنے کا آلہ جسے ہم (calculator) کے نام سے بھی جانتے ہیں، کیا وہ کبھی غلط حساب بتاتا ہے؟ ہمیشہ اس کا حساب درست ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ (calculator) معصوم ہے، یا اس کا بنانے والا معصوم ہے، بلکہ اس نے جس طریقہ سے اس حساب کرنے کے آلہ کو تیار کیا ہے وہ طریقہ بہت پختہ ہے، اسی طرح امام بخاری بالکل بھی معصوم نہیں، لیکن انہوں نے جن شروط وضوابط کی پابندی کے ساتھ احادیث کو جمع کیا ہے وہ بہت پختہ ہے.
نیز صحیح بخاری کو اس مقام تک پہنچانے میں امام بخاری نے اکیلے کام نہیں کیا، بلکہ امام بخاری کے زمانے سے لے کر ہر دور کے ائمہ نے امام بخاری کی اس کتاب کی چھان پھٹک کی، اور اس کتاب نے نقد واعتراض کے تمام مراحل کو بلا کسی رکاوٹ کے عبور کیا ہے، تب جاکر اسے یہ مقام ملا ہے، اس لئے امام بخاری رحمہ اللہ کے انسان ہونے کے آڑ میں ان کی جمع کردہ احادیث کو ٹارگٹ نہ کریں، بلکہ علوم حدیث کے اصول وضوابط کی بنیاد پر کسی حدیث کو میزانِ جرح وتعدیل میں رکھیں.
اور یاد رہے کہ چمنستان حدیث یوں ہی آباد رہے گا، کیوں کہ اس کی آباد کاری کی ذمہ داری اس رب نے لیا ہے جس پر کوئی بھی چیز مخفی اور پوشیدہ نہیں.
اگر امام بخاری اور امام مسلم نہیں بھی ہوتے، یا اگر ہوتے اور احادیث کو جمع نہیں بھی کرتے پھر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ احادیث ہم تک بالکل اسی طرح پہنچتی جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں موجود تھی، کیوں کہ اس دین کو تاقیامت بالکل اسی شکل میں قائم رکھنے کا وعدہ عرش والے نے کیا ہے، اور احادیث رسول کی حفاظت بغیر اس دین کا اپنی حقیقی شکل میں باقی رہنا ممکن نہیں، اور نہ ہی اس کے بغیر دین کا تصور کیا جاسکتا ہے، اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کا صحیح صورت میں تاقیامت باقی رہنا دین کے باقی رہنے کو مستلزم ہے.
 
Top