قارئین کرام : حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی طرح وحی اور شریعت اسلامیہ کا پہلا ذخیرہ، مصدر اور مأخذ ہے ، اور اس کو یہ درجہ خود اللہ رب العالمین نے دیا ہے ۔
اگرچہ قرآن سنت پر اس ناحیے سے مقدم ہے کہ :
- اس کے الفاظ اللہ رب العزت کی طرف سے ہیں ۔
- اس کی تلاوت عبادت کی نیت سے کی جاتی ہے ۔
- اس کے جیسا کلام لانے کا چیلنج دیا گیا ہے ۔ مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ حجت کے اعتبار سے بھی دونوں کے درمیان فرق ہے لہذا اسے دوسرا درجہ دے دیا جائے اور کہا جائے کہ شریعت اسلامیہ کا پہلا مصدر وماخذ قرآن ہے اور حدیث یا سنت دوسرا مصدر اور ذخیرہ ہے ۔
بلکہ حجت کے اعتبار سے قرآن وسنت دونوں یکساں اور برابر ہیں اور دونوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں ہے ۔
جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : " أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ، أَلَا يُوشِكُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ : عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْقُرْآنِ، فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ، وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ، أَلَا لَا يَحِلُّ لَكُمْ لَحْمُ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ، وَلَا كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ، وَلَا لُقَطَةُ مُعَاهَدٍ ، إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا صَاحِبُهَا، وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَعَلَيْهِمْ أَنْ يَقْرُوهُ، فَإِنْ لَمْ يَقْرُوهُ فَلَهُ أَنْ يُعْقِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ ".( أبو داود | أَوْلُ كِتَابِ السُّنَّةِ | بَابٌ : فِي لُزُومِ السُّنَّةِ : 4604 ) ۔
" سنو ! مجھے کتاب ( قرآن ) دی گئی ہے اور اس کے ساتھ اسی کے مثل ایک اور چیز بھی ( یعنی سنت ) ، قریب ہے کہ ایک آسودہ آدمی اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہوئے کہے : اس قرآن کو لازم پکڑو، جو کچھ تم اس میں حلال پاؤ اسی کو حلال سمجھو، اور جو اس میں حرام پاؤ، اسی کو حرام سمجھو، سنوب! تمہارے لیے پالتو گدھے کا گوشت حلال نہیں اور نہ کسی نوکیلے دانت والے درندے کا، اور نہ تمہارے لیے کسی ذمی کی پڑی ہوئی چیز حلال ہے سوائے اس کے کہ اس کا مالک اس سے دستبردار ہو جائے، اور اگر کوئی کسی قوم میں قیام کرے تو ان پر اس کی ضیافت لازم ہے، اور اگر وہ اس کی ضیافت نہ کریں تو اسے حق ہے کہ وہ ان سے مہمانی کے بقدر لے لے " ۔
اس حدیث میں تین باتیں قابل ذکر ہیں ۔

1 - حجت میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے مثل ہے ایک ذرہ بھی اس کا درجہ قرآن سے کم نہیں ہے ۔
2 - ایسے لوگوں سے دور رہنا واجب ہے جو صرف قرآن کے احکامات کو لیتے اور سنت کے احکامات کو چھوڑ دیتے ہیں ۔
3 - بہت سارے احکامات ایسے ہیں جو قرآن مجید میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں وہ صرف اور صرف سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہیں جن میں سے چند کی مثال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث مبارکہ کے اندر دے دی ہے ۔

قارئین کرام : آپ کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ متاخرین فقہاء خاص طور پر فقہائے احناف نے اپنے فقہی اسکول کی بنیاد معتزلہ کے نظریہ پر رکھی ہے ، چنانچہ اصول فقہ کی کتابوں میں انہوں نے " مصادر التشريع الإسلامي " کے ضمن میں پہلے درجہ پر کتاب اللہ کو اور دوسرے درجہ پر حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو رکھا ہے ۔ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ کسی مسئلہ کا حکم پہلے قرآن میں تلاش کیا جائے اور جب اس میں نہ ملے تو حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ۔
جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن میں کوئی حکم مل جائے تو پھر سنت کی طرف رجوع کرنے یا اس میں تلاش کرنے کی ضروت نہیں ہے ۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ قرآن وحدیث کی تشریعی حیثیتوں میں تفریق اور درجہ بندی کو واجب العمل اصول قرار دینے کی غرض سے اس کو اکابر صحابہ کرام کی طرف منسوب کر دیا گیا اور اس کو اتنی شہرت دی گئی کہ لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ یہ تشریع اسلامی کا مسلمہ اور متفقہ قاعدہ ہے ۔
چنانچہ اصول فقہ کی کتابوں میں یہ روایت بکثرت بیان کی جاتی ہے : " كان أبو بكر الصِّدِّيق إذا ورَدَ عليه حكمٌ؛ نَظَرَ في كتاب اللَّه تعالى، فإن وجَد فيه ما يقضي به قضى به، وإن لم يجد في كتاب اللَّه نَظَر في سنة رسول اللَّه -رضي الله عنه- فإن وجَد فيها ما يقضي به قضى به، فإن أعياه ذلك سأل الناسَ: هل علمتم أن رسول اللَّه -ﷺ- قَضى فيه بقضاء؟ فربما قام إليه القومُ فيقولون: قضى فيه بكذا وكذا، فإن لم يجد سُنَّةً سَنَّها النبي -ﷺ- جَمَع رؤساء الناس فاستشارهم، فإذا اجتمع رأيُهم على شيء قضى به ". ( سنن الدارمي | الْمُقَدِّمَةُ | بَابٌ : الْفُتْيَا وَمَا فِيهِ مِنَ الشِّدَّةِ : 163 ، واعلام الموقعين عن رب العالمين : 2/115، ).
" ابوبکر صدیق کے سامنے جب کوئی حکم طلب معاملہ آجاتا تو وہ کتاب اللہ میں نظر ڈالتے اگر اس میں ایسا کوئی حکم پاتے جس کے مطابق اس معاملہ کا فیصلہ کریں تو اس کے ذریعے اس کا فیصلہ کر دیتے ، اور اگر کتاب اللہ میں کوئی حکم نہ پاتے تو لوگوں سے پوچھے کیا تمہارے علم میں یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلہ میں کوئی فیصلہ کیا ہے ؟ بسا اوقات لوگ اٹھ کر ان کو بتاتے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلہ میں ایسا اور ایسا فیصلہ کیا ہے اور اگر ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نہیں ملتی تو لوگوں میں سے ارباب فکر و علم کو بلا کر ان سے مشورہ کرتے اور جس پر ان کی رائے متفق ہو جاتی اسی کو لاگو کر دیتے " ۔
حالانکہ یہ روایت صحیح نہیں بلکہ منقطع ہے کیونکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے " میمون بن مہران " 20 ھ میں پیدا ہوئے ۔

یہ بات ذہن نشین رہے کہ جہاں تک حکم طلب معاملہ پیش آ جانے پر کتاب اللہ سے رجوع کرنے کا مسئلہ ہے تو یہ حق ہے مگر قرآن پاک میں کسی مسئلہ کا حکم پا لیے جانے کا معاملہ وضاحت طلب ہے کیونکہ بیشتر قرآنی احکامات اصولی ہیں جن کی تفصیلات احادیث میں بیان کی گئی ہیں ۔
لہذا صرف قرآن مجید پر اکتفا کر لینے سے آپ مقصود تک نہیں پہونچ سکتے ۔
( اس سلسلے میں مزید معلومات کے لئے د/ سید سعید احسن عابدی کی کتاب " حدیث کا شرعی مقام " خاص طور سے جلد ایک صفحہ 43 تا 47 کی طرف رجوع کر سکتے ہیں) ۔

خلاصہ کلام یہ کہ شریعت مطہرہ میں حدیث و سنّت دوسرے درجے کا مآخذ نہیں ہے بلکہ قرآن و سنت وحی اور شریعت ہونے کی بناء پر یکساں حجت ہیں، دونوں کو ملا کر شریعت حاصل ہوتی ہے ۔
لہذا قرآن پہلا مصدر اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسرا مصدر کہنا درست نہیں ہے ۔
 
Top