۲۰۲۰ء حقائق و أرقام
تحریر: عبد السلام بن صلاح الدین مدنی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
الحمد للہ رب العالمین ‘و الصلاۃ و السلام علی أشرف الأنبیاء و المرسلین و بعد
عیسوی سال نو (۲۰۲۰ء) کے آخری ایام ہیں ‘یہ سال اپنی بساط سمیٹنے کو تیار ہے‘لوگوں میں مبارکبادیوں کا سلسلہ دراز ہے ‘خوشیاں منائی جا رہی ہیں ‘مسرت و انبساط کا ماحول ہے ‘لوگ آپسی محبت و عقیدت کا تبادلہ کر رہے ہیں ‘کچھ لوگ سال ۲۰۲۰ء کو الوداع کہہ رہے ہیں ‘تو کچھ لوگ سال ۲۰۲۱ء کا استقبال کر رہے ہیں ۔
دیکھنا اب محفلیں سجیں گی ‘ڈمرے بجیں گے ‘گانے گائے جائیں گے ‘فلمیں دیکھی جائیں گی ‘قحبہ خانوں میں بھیڑ ہوگی ‘شراب و کباب کی خوب خوب مستی ہوگی ‘رنگ رلیاں منائی جائیں گی ‘و العیاذ باللہ
اس مناسبت سے چند باتیں پیش کی جاتی ہیں ‘شاید ہماری اصلاح کا کوئی سامان مل جائے
(۱)سال کا آنا جانا اللہ کی قدرت کاملہ کا ایک مظہر ہے ‘اور اللہ کا یہ طریقہ ٔ کار رہا ہے ‘کہ زمانہ میں الٹ پھیر کرتا رہتا ہے ‘اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :إن في خلق السموات و الأرض لآيات لأولي الألباب(آل عمرن:190) ترجمہ:آسمانوں و زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں یقینا عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں)
رب کائنات کے رات و دن کے اس الٹ پھیر سے ہمیں عبرت حاصل کرنی چاہئے
(۲)سال کے اختتام پر تمام کمپنیاں اپنے آمد و خرچ کا حساب و کتاب کرتی ہیں ‘لہذا ہمیں بھی حساب و کتاب کرنا چاہئے ‘حساب و کتاب کس چیز کا؟
حساب و کتاب اپنے اعمال کا
حساب و کتاب اپنے کردار کا
حساب و کتاب اپنے عادات و گفتار کا
حساب و کتاب اپنے انجام دئے ہوئے تمام اچھے اور برے افعال کا
حساب و کتاب اپنے نفس کا
حساب و کتاب اپنی تقصیر ِ عمل کا
اسی لئے حضرت عمر۔رضی اللہ عنہ۔ فرمایاکرتے تھے :حاسِبوا أنفسَكم قبل أن تُحاسَبوا، وتزيَّنوا للعَرْض الأكبر، وإنما يَخِفُّ الحسابُ يوم القيامة على مَن حاسَب نفسَه في الدُّنيا،،(محاسبۃ النفس از ابن الدنیا :ص ۲۲‘کتاب الزہد از امام احمد ص ۱۲۰‘حلیۃ الأولیاء از ابو نعیم اصفہانی ۱ ۵۲‘علامہ البانی نے اسے ضعیفہ(۱۲۰۱)میں ضعیف قرار دیا ہے‘البتہ معنی کے اعتبار سے بہت صحیح ہے )
لہذا ہمیں اپنے نفس کا محاسبہ کرنا چاہئے ‘اور گزشتہ سے پیوستہ اعمال میں موازنہ کرنا چاہئے
(۳)ہمیں ایسے موقعہ پر یہ بھی جاننا چاہئے کہ زندگی چند روزہ ہے ‘یہاں ہماری مدت بہت مختصر ہے ‘ہم ہمیشہ رہنے کے لئے یہاں نہیں آئے ہیں ‘ بلکہ ہم یہاں چند روزہ زندگی گزار کر اس کائنات کو خیرآباد کہہ جائیں گے ‘اسی لئے آپ دیکھیں گے کہ سال ۲۰۲۰ء میں کئی بزرگ علمائے اسلام اس دنیا سے چلے گئے ‘جن میں :
۱۔استاذ گرامی حافظ و قاری نثار أحمد الفیضی (استاد ِ حدیث جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو ناتھ بھنجن )(۲۲ فروری ۲۰۲۰)
۲۔ علامہ و ڈاکٹر محمد لقمان سلفی،۔کبیر الباحثین برئاسۃ الإفتاء و البحوث العلمیہ ریاض، سعودی عرب‘بانی و مؤسس جامعہ امام ابن تیمیہ بہار ‘الہند( 5 مارچ 2020ء)(صاحبِ تیسیر البیان )
۳۔مولانا فضل الرحمان محمدی، مالیگاؤں( 25 اپریل 2020ء)
۴۔شاعرِ سلفیت مولانا یوسف جمیل جامعی، کرنول آندھرا،( 30 اپریل 2020ء)
۵۔ پروفیسر علامہ وحافظ عین الباری عالیاوی،کولکاتہ،بنگال،( 15مئی2020ء‘صاحبِ تالیفاتِ کثیرہ نافعہ)
۶۔ پروفیسر مولانا ثناءالله خان، پاکستان، 18( مئی 2020ء)
۷۔ شیخ الحدیث مولانا عبد الرشید ہزاروی، پاکستان، (29 مئی 2020ء)
۸۔شیخ القراء قاری یحیی رسول نگری، پاکستان،( 31مئی 2020ء)
۹۔پروفیسر مولانا عبدالرحمان لدھیانوی، پاکستان، (3 جون 2020ء)
۱۰۔ مولانا یوسف بٹ، پاکستان،(جون 2020ء)
1۱۔داعئ اسلام‘مجسمِ صدق و صفا محمد ریاض موسی ملیباری، کیرالا، (8جون 2020ء)
11۔پروفیسر ڈاکٹر ولی اختر بن شیخ الحدیث امان اللہ ندوی، دہلی، 9(جون 2020ء )
(۱۳) شیخ علاءالدین ندوی سابق استاد جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں.
(۱۴)ڈاکٹر عبد الباری خان (ناظم جامعہ خیر العلوم ڈومریا گنج‘یوپی )(۹ جولائی ۲۰۲۰)
(1۵) علامہ و مفسرِ عظیم حافظ صلاح الدین یوسف شہر لاہور‘پاکستان(اور آج(12 جولائی 2020ء‘تقریبا ۱:۳۰رات)
(۱۶)محدث کبیر علامہ محمد ضیاء الرحمن الأعظمی (محدث مدینہ )(۲ ۸ ۲۰۲۰ء یوم ِ عرفہ)
(۱۷)شیخ علی حسین السلفی جھارکھنڈی (شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ بنارس) (۲۳ جولائی ۲۰۲۰ء بوقت :بعد نماز ظہر)
خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں (ورنہ تو ایک لمبی فہرست ہے ‘اس سال (۲۰۲۰ء)وفات پانے والے علمائے اسلام کی‘اسی لئے اسے عام الحزن سے بھی بعض لوگ تعبیر کرتے ہیں بقول بعضے ؎
عجب سال ہے ‘نہیں ایک پل بھی سکون v لکھ لکھ کے تھک گئے ‘إنا للہ و إنا إلیہ راجعون
نیز ؎
کچھ خوشیاں کچھ آنسو دے کر ٹال گیا v جیون کا ایک اور سنہرا سال گیا
(۴)ہماری عمر کا خلاصہ ہماری صبح و شام ہے,جیساکہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؎
صبح ہوتی ہے ‘شام ہوتی ہے v عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے
لہذا اسی صبح و شام کی حقیقت مان کر ہمیں اپنی زندگی گزارنی چاہئے
نبی کریمﷺ نے فرمایا:( ,,اِغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ شَبَابَکَ قَبْلَ ہَرَمِکَ ، وَصِحَّتَکَ قَبْلَ سَقَمِکَ، وَغِنَاکَ قَبْلَ فَقْرِکَ، وَفَرَاغَکَ قَبْلَ شُغْلِکَ ، وَحَیَاتَکَ قَبْلَ مَوْتِکَ،،)(قصر الأمل از:ابن ابی الدنیا :۱۱۱‘مستدرک حاکم برقم:۷۸۴۶‘۷۹۴۱شعب الإیمان از بیہقی برقم:۱۰۲۴۸‘صحیح الترغیب برقم:۳۳۵۵)(ترجمہ:پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں کو غنیمت جان لو (۱) اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے (۲) اپنی صحت و تندرستی کو بیماری سے پہلے (۳) اپنی مالداری کو فقروفاقے سے پہلے (۴) اپنے خالی اوقات کو مشغولیت سے پہلے (۵) اپنی زندگی کو موت سے پہلے)
(۵) جب ایک سال آتا ہے اور ایک سال جاتاہے تو ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ ہماری عمرکا ایک سال کم ہوگیا ؎
ایک اور اینٹ گر گئی دیوار ِ حیات سے  نادان کہہ رہا ہے نیا سال مبارک
اور انہیں اسباب کی بنیاد پر ہایک بہت قدیم شاعر فیض احمد فیض نے بہت پہلے کہا تھا ؎
اے نئے سال بتا، تُجھ ميں نيا پن کيا ہے؟ ہر طرف خَلق نے کيوں شور مچا رکھا ہے
روشنی دن کی وہي تاروں بھري رات وہی آج ہم کو نظر آتي ہے ہر ايک بات وہی
آسمان بدلا ہے افسوس، نا بدلی ہے زميں ايک ہندسے کا بدلنا کوئي جدت تو نہيں
اگلے برسوں کی طرح ہوں گے قرينے تيرے کسے معلوم نہيں بارہ مہينے تيرے
جنوري، فروري اور مارچ ميں پڑے گي سردي اور اپريل، مئي اور جون ميں ہو گي گرمي
تيرا مَن دہر ميں کچھ کھوئے گا کچھ پائے گا اپنی ميعاد بَسر کر کے چلا جائے گا
تو نيا ہے تو دکھا صبح نئي، شام نئی ورنہ اِن آنکھوں نے ديکھے ہيں نئے سال کئی
بے سبب لوگ ديتے ہيں کيوں مبارک باديں غالبا بھول گئے وقت کی کڑوي ياديں
تيری آمد سے گھٹی عمر جہاں سے سب کی فيض نے لکھی ہے يہ نظم نرالے ڈھب کی
(۶)نئے سال (چاہے وہ ہجری سال ہو یا عیسوی )کی مبارکبادی پیش کرنا شریعت کے روح کے خلاف ہے ‘نہ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ ہےہ نہ صحابہ ٔ کرام کا ‘نہ بزرگان ِ دین کا ‘اور نہ ہی ائمہ ٔ متبوعین کا ۔
لہذا اس مناسبت سے خوشیاں منا نا ‘جشن منانا ‘اور مبارکباد پیش کرنا ہے ‘نہ صرف ایک حرام کام ہے ‘بلکہ بدعت بھی ہے ‘جس کی کوئی نظیر سابقہ ازمان میں نہیں ملتی ہے
(۷)یہ کیسی مستی ہے کہ ہماری زندگی کا ایک حصہ کم ہوگیا ‘ہماری دیوار ِ حیات کی ایک اینٹ گر گئی ‘ ہماری زیست کا ایک سال کم ہوگیا ہے ‘اور ہم خوشیاں منا رہے ہیں ‘پارکوں میں کلبوں وغیرہ میں رنگ رلیاں منا رہے ہیں ‘موج مستی میں پاگل ہوئے جارہے ہیں‘لذت کام و دہن سے ہم مست و سرشار ہیں ‘پکنک پر نکل رہے ہیں ‘مبارکباد پیش کر رہے ہیں ‘روشنیوں سے شہروں کو سجائے ہوئے ہیں‘اور شہر بقعہ ٔ نور بنا ہوا ہے ‘پٹاخے پھوڑے جا رہے ہیں ‘ ؎
اس کو تو دنیا میں میں ترقی نہ کہوں گا
ضرورت اس بات کی ہے کہ کبھی زندگی کی حقیقت پر بھی غور کرلیا کریں‘موت کو یاد کرلیا کریں ‘قبر کی تنگی بھی یاد کرلیا کریں‘حشر و نشر کی ہولناکیاں بھی ذہن نشین کرلیا کریں‘جنت و جہنم بھی ذہن کے اسکرین پر کچھ دیر کے لئے ہی سہی لے آیا کریں
(۸) اگر کچھ کرنا ہی ہے تو ہونا یہ تھا کہ ہم خون کے آنسو رورتے ‘اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے ‘قرآن کی تلاوت ہوتی ‘رب کو راضی کرنے کی کوشش کی جاتی ‘ ماضی میں کئے اعمالِ بد پر اشکِ ندامت بہائے جاتے ‘توبہ بجالایا جاتا ‘رب کے حضور رویا گڑ گڑایا جاتا ‘معافیاں مانگی جاتیں ‘استغفار کیا جاتا ‘اللہ کو خوش کرنے کی کوشش کی جاتی ‘حضرت عبد اللہ نے مسعود ۔رضی اللہ عنہ۔ نے فرمایا تھا :‘‘ ما ندمت على شيء ندمي على يوم غربت شمسه، نقص فيه أجلي، ولم يزد فيه عملي,,(قیمۃ الزمن عند العلماء ص ۷۲) یہ اور اس قسم کے آثار ہمیں بتلاتے ہیں کہ ہمیں وقت‘زمانہ ‘اور سالوں کی قدر کرنی چاہئے ‘بہت پہلے کسی نے کہا تھا (الوقت کالسیف ,ان لم تقطعہ قطعک) وقت دھاری دار تلوار کی طرح ہے ‘اگر تم اسے نہ کاٹوگے تو وہ تمہیں کاٹ ڈالے گا ‘اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم وقت کی قدر کریں ‘اس سے سبق لیں ‘اس کے جانے پر افسوس کا اظہار نہ کریں ‘بلکہ مستقبل کے لئے لائحہ ٔ عمل تیار کریں‘اور اعمال ِ صالحہ کی انجام دہی میں لگ جائیں
(۹)اگر کچھ کرنا ہی ہوتا تو یہ ہوتا کہ ماضی کے اعمال کا محاسبہ کیا جائے ‘حال کی اصلاح کے لئے کمر بستہ ہوا جائے ‘اور مستقبل کے لئے ٹھوس لائحہ ٔ عمل تیار کیا جائے ۔
(۱۰)سال کے اختتام پر چند امور قابل غور ہیں ‘ جو ۲۰۲۰ ء کے لئے انتہائی شرمسار کرنے والے ہیں ‘یہ حقائق بھی ہیں ‘مگر تلخ ہیں ‘اور ایک یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان امور پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے
- کئی ممالک میں اسلام اور اہل اسلام کو تہ ِ تیغ کردیا گیا ‘ظلم و ستم کے پہاڑتوڑے گئے اور تاہنوز یہ عمل جاری ہے
- کورونا نے پورے عالم کی کمر توڑ رکھی ہے‘مدارس بند ہیں ‘کالج مقفل ہیں‘بچے بربادی کے دہانے پر ہیں ‘کچھ ماہ کے لئے تو مساجد بھی بند کردی گئی تھیں‘حرمین شریفین میں بھی عام مصلیوں پر نماز ادا کرنے کی پابندی تھی‘بعد میں الحمد للہ کھول دی گئیں
-فلسطین کے مسلمان برسہا بر س سے ظلم و ستم کی چکی میں پیسے جا رہے ہیں ‘مگر حقوق ِ انسانیت کے نام نہاد ٹھیکیدار خاموش تماشائی بنے ان مناظر کو دیکھ کر خرمستیوں میں س رہے ہیں‘افسوس صد افسوس ۔اور دن ہی میں تارے گنتے اپنے مفاد میں سر مست ہیں ‘اور عام مسلمان ہیں کہ اپنی رنگ رلیوں میں ‘خواب خرگوش میں ‘ردائے تغافل تان کر سورہے ہیں‘اور کچھ مسلمان ہیں جو سوشل میڈیا پر بھونک رہے ہیں‘اور یہی ان کا مشغلہ ہے
 ۔ہندوستانی پس منظر میں دیکھا جائے تو ۲۰۲۰ ء میں ہند کے کئی اہم صوبوں پر فسطائی طاقتوں پر قبضہ جاری ہے ‘جن میں سب سے اہم صوبہ ٔ اتر پردیش ہے ‘جو مسلم اکثریتی صوبہ مانا جاتا ہے ‘اور یہاں ہندوستان کے مقابلہ میں سب سے زیادہ مدارس ‘ جامعات ‘اور مساجد ہیں ‘اس کے باوصف فسطائی طاقت کا غلبہ افسوس ناک ہے ‘وہاں یقینا مسلمانوں کے حوصلہ پست ہیں ‘مسلمانوں پر بالخصوص ظلم و جبر کا قہر نا روا جاری ہے
 ۔ہندوستانی پس منظر میں دیکھا جائے تو کہنا چاہئے ‘کہ مسلمانوں کے سروں پر ایسے ظالمانہ اور سفاکانہ نظام کو مودی حکومت نے ۲۰۱۹ء سے مسلط کر دیاہے ‘جسے سی اے اے ‘این آرسی اور این پی آر کے نام سے موسوم کیا گیا‘جو عمومی طور پر تمام باشندگانِ ہند کے لئے زہر ہلاہل ہی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے‘آندولن چلا‘تحریک بپا ہوئی ‘شاہین باغ میں ہند کی خواتین نے تحریک چلائی ‘نتیجتا پورے ملک میں چلی اور خوب خوب چلی (اگر کورونا نے نہ دستک دیا ہوتا تو نہ جانے کب تک چلتی )جامعات اور یونیوسیٹیوں کے طلبہ نے بھر پور حصہ لیا ‘اور اپنی ناراضگی جتائی ‘ وغیرہ وغیرہ
-۲۰۲۰ء ہی وہ سال ہےجس سال کتنے بچے یتیم ہوئے ‘بہت ساری بہووں کے سہاگ اجڑے ‘کتنی ہی مائیں ایسی ہیں جنہیں تہ تیغ کیا گیا اور بچوں کو یتیم کیا گیا‘کتنے مسلمان گئو رکشا کے نام پر مارے گئے ‘کتنے لوگ لو جہاد کے نام پر قتل کئے گئے ‘پھنسائے گئے ‘انہیں جیل کے سلاخوں کے پیچھے ڈھکیلا گیا ‘بری طرح سے انہیں ٹارچر کیا گیا ‘کتنے کسانوں نے خود کشی کی ‘اگر سرکار واقعتا خیر خواہ تھی تو ایسے معاملات میں سنجیدگی سے غور کرتی ‘مگر ہائے رے ایسا کچھ نہیں ہوا
• ۲۰۲۰ء میں کسانوں کے خلاف تین ایسے زرعی قوانین پاس کر دئے گئے ‘جو ان کے حق میں تو قطعی نہ تھا ‘مگر امبانی اور اڈانی کے لئے مفید ِ کار ضرور تھا ‘کسان اب تک (تا دم ِ تحریر )تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں
• ۲۰۲۰ء ہی میں بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا ‘جو بھارت کی پیشانی پر شرمناک کلنک تھا اور صبح ِ قیامت تک باقی رہے گا
• ۲۰۲۰ء میں ہی بابری مسجد شہادت کے ملزمان کو باعزت (تمام شواہد فراہم ہونے کے باوجود )بری کردیا گیا
۔جنت نظیر کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے‘ان احوال کی عکاسی کے لئے الفاظ و تعبیریں بونے نظر آتے ہیں
الغرض گزرا ہوا سال تلخ تجربات، حسیں یادیں، خوشگوار واقعات اور غم و الم کے حادثات چھوڑ کر رخصت ہواچاہتا ہے اور انسان کو زندگی کی بے ثباتی اور نا پائیداری کا پیغام دے کر الوداع کہہ رہا ہے، سال ختم ہوتاہے تو حیات مستعار کی بہاریں بھی ختم ہوجاتی ہیں اور انسان اپنی مقررہ مدت زیست کی تکمیل کی طرف رواں دواں ہوتا رہتا ہے۔ سچ کہا ہے کسی شاعرنے :
غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی vگِردوں نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹادی
غم نہ کرو اور عمل کئے جاؤ
مسلمان وہ ہوتا ہے جو ہمیشہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہے ‘اوراسباب اختیار کرتے ہوئے اسی کے بھروسہ زندگی گزارتا ہے ‘کبھی مایوس نہیں ہوتا‘ یقینا ہند کے اہل اسلام پر اس سے بھی خطرناک دور آئے ہیں ‘مگر صبر و ضبط کا دامن کبھی نہیں چھوڑا ‘اور رب کائنات نے ہمیشہ اہل اسلام کی یاوری فرمائی ‘مدد کی ‘اور اسی ذات واحد نے ہی صرف سہارا دیا ‘آج بھی مسلمانوں کو گھبرانے ‘پریشان ہونے ‘قلق و اضطراب میں مبتلا ہونے ‘اور مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے ‘بس اتنا کام کرنا ہے کہ :
۔اللہ کی طرف پلٹیں
۔اپنے گناہوں سے توبہ تائب ہو کر اللہ سے لو لگائیں
۔اپنے حقیقی ایمان کا ثبوت پیش کریں
۔ اور اللہ سے دعائیں کریں
ہمارا رب وہی ہے جس نے فرمایا ہے :
وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ(آل عمران :۱۳۹)(ترجمہ:تم نہ سستی کرو اور نہ غمگین ہو‘تم ہی غالب رہوگے اگر تم ایمان دار ہو
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ(محمد:۷) (ترجمہ:اے ایمان والو!اگر تم اللہ کے دین کی مدد کروگے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا
وغیرہ جیسی آیات ہمارے حوصلے ضرور مضبوط کرتی ہیں ‘اور ہم پر امید ہیں کہ اللہ ہماری ایک نہ اک دن ضرور مدد فرمائے گا ‘ان شاء اللہ
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو ‘اور ایمان و عمل پر ہمیشہ قائم و دائم رکھے
(حرر فی :۱۵/۵/۱۴۴۲ ھ مطابق:۳۰/۱۲/۲۰۲۰ء)
 
Top