ذیشان خان

Administrator
بسم اللہ الرحمن الرحیم
خطبہ جمعہ مسجد نبوی
بتاريخ:17؍جمادي الاول 1442هـ مطابق 1؍جنوری؍ 2021 عیسوی۔
خطیب: فضیلۃ الشیخ صالح البدير حفظہ اللہ
موضوع: دوسروں کی عیب جوئی پر وارنینگ۔
ترجمہ: حافظ محمد اقبال راشد

پہلا خطبہ
اے مسلمانو !
عقلمنداورسمجھدار لوگ، ہمیشہ اپنے آپ کو بدمنُا دھبوں اور معیوب کاموں سے بچاتے ہیں، انتہائی شاندار کردار اور خوبیوں کو اپنا کر، شکوک وشبہات سے بالاتر رہتے ہوئے، اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کرتے ہیں۔
عظیم کردار انسان صرف وہی ہوتا ہے، جو زندگی بھر بذریعہ نیکی اپنی آبرو کو داغدار ہونے سے بچاتا ہے ۔
تمہاری عمر اس امر پر شاہد ہے کہ، نوجوان کی موت عیب نہیں، اگر زندگی بے عیب گزاری ہو۔
ہر زندہ شخص اگرچہ صحتمند ہو، وہ قبر والوں سے زیادہ باقی نہیں رہ سکتا۔
جدت و شباب دونوں ہی فرسودگی کا شکارہیں۔
اور ہر ایک شخص نے ایک دن اللہ کی طرف ہی جانا ہے۔
مومن کبھی نہیں چاہتا کہ وہ شکوک و شبہات کے تیر پھینکنے والوں کا مدعایا قابلِ نفرت تذکرے کا ٹا رگٹ یا ملامت کرنے والوں کا موضوعِ سخن اور بہتان بازوں اورعیاروں کا نوالہ تربنے۔
بلکہ وہ طاقت سے بالاتر مفروضوں کے اصولوں اورناقابلِ شکست خیالات سے الگ تھلگ رہتا ہے، شکوک وشبہات اور قابلِ تہمت چیزوں سے براءت کے اظہار سے لوگوں سے سلامتی چاہتا ہے۔
ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا ، رمضان کے آخری عشرے میں، مسجد کے اندر رسول اللہ ﷺ کے پاس ، آپ کی زیارت کے لیے، ان کی اعتکاف گاہ میں تشریف لائیں، کچھ دیر آپ سے باتیں کیں، پھر واپسی کے لیے اٹھیں اور جب مسجد کے باب امِ سلمہ نامی دروا زے پر پہنچیں، تو دو انصاری صحابہ گزر رہے تھے،
تو نبی مکرم ﷺ نے انہیں کہا: " ٹھہرو! بلاشُبہ (یہ میری بیوی) صفیہ بنتِ حیی ہے " تان دونوں نے عرض کیا: سبحان اللہ، اے اللہ کے رسول! اور یہ ان پر بڑا شاق گزرا، تو نبی مکرم ﷺ نے فرمایا:" یقیناً شیطان انسان کے خون کی جگہ گردش کرتا ہے، اس لیے مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دلوں میں کوئی شک وشبہ نہ ڈال دے ". (بخاری و مسلم)
پرانى کہا وت ہے کہ:
جو آدمی لوگوں کو اپنی مذمت کا موقع خود فراہم کرتا ہے، تو وہ اس کی حق نا حق، دونوں میں مذمت کرتے ہیں۔
اے مسلمانو!
جس نے اپنے آپ کو خواہش پرستی سے نہ روکا، اس کے عیوب ظاہر اور راز فاش ہو جاتے ہیں۔
اورکہا گیا ہے کہ: شکوک و شبہات کی سرگوشی میں نہ پڑو اورجان لو کہ تم پر ایک نگران ہے۔
عقلمند ہمیشہ مذمت وقباحت کے اسباب سے دور اورعداوت و ناراضگی کی وجوہات سے بالاتر رہتا ہے۔
عوف بن محلمِ کہتے ہیں:نوجوان بوجہ مذمت عزت و آبرو کے مجروح ہونے سےتو ڈرتا ہے، مگر قاطع تلواروں کے وار سے نہیں ڈرتا۔
میں اپنی آبرو کو بوجہ سرگوشی داغدار ہونے سے بچاتا ہوں، کیونکہ فساد و شر سے بچنے والا ہی سعادت مند ہوتا ہے۔
السِموَالَ بن عادیا ازَدی کہتا ہے:
جب آدمی اپنی عزت کو داغدار ہو نے سے بچا کر رکھتا ہے، تو زِیبِ تن کیا گیا امس کا ہر لباس ہی خوبصورت ہے۔
اے مسلمانو!
لوگوں کی زبانیں، عیب جوئی میں تیز اوران کےنفس، خامیوں کے شوقین ہیں۔
وہ خوبیاں تھوڑی اور خامیاں زیادہ پھیلاتے ہیں۔ اوران میں فضائل کی نسبت عار زیادہ سرایت کرتی ہے۔
محفلوں میں غیبت اورعیب جوئی کی بھرمارہوتی ہے، سوائے ان لوگوں کے جن پر اللہ کی خاص مہر بانى ہو، اور وہ بہت ہی تھوڑے ہیں۔
بکر بن عبداللہ کہتے ہیں:
" جب کسی کو دیکھو کہ وہ اپنے عیبوں کو فراموش کرکے، لوگوں کی عیب جوئی میں مصروف ہے تو جان لو کہ وہ دھوکے کا شکار ہے
محمد بن سیرین کہتے ہیں:"ہمیں بتایا جاتا تھا کہ، سب سے بڑھ کر غلطیاں بھی انہیں کی ہوتی ہیں، جو لوگوں کی خطائیں بیان کرنے کے لیے سب سے زیادہ فارغ ہوتے ہیں" ۔
بعض بزرگوں کا کہنا ہے کہ: "ہم نے ایسے سلف صالحین کو پایا ، جو نماز روزہ کے بجائے لوگوں کی آبرو ریزی سے باز رہنے کو ہی عبادت سمجھتے تھے"۔
ربیع بن خثی سے پوچھا گیا: " ہم نے آپ کو کبھی کسی کا عیب بیان کرتے نہیں دیکھا ،تو انہوں نے کہا: میں تو اپنے نفس سے ہی راضی نہیں، تو لوگوں کی مذمت کے لیے کیسے فارغ ہوں
میں اپنے نفس کے لیے روتا ہوں ، مجھے علاوہ ا ز یں کے لیے رونے کی ضرورت نہیں ۔
دل میں میرے نفس کی فکرنے ، مجھے دوسروں سےبےنیاز کر دیا ہے۔
انسان کا عیب بھی یہی ہے کہ، وہ اپنے عیبوں کو فراموش کرتےہوئے، اپنے بھائی کا پوشیدہ عیب بیان کرے،
اگر وہ عقلمند ہوتا تو دوسروں کی خامیاں بیان نہ کرتا۔
کیونکہ اس میں اتنے عیب ہیں ، اگر ان پرنظر پڑجائے، تو اس کےلیے اتنا ہی کافی ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا": تمہارے کسی ایک کو اپنے بھائی کی آنکھ میں ، تنکا تک دکھائی دیتا ہے ، جبکہ اپنی آنکھ کا شہتیر بھی بھولا ہو ا ہے"۔ (ابنِ حبان.)
ابنِ اثیر کہتے ہیں:" لوگوں کے معمولی عیبوں کو دیکھ کر انہیں بطورِ مثال بیان کرتا اور انہیں انکا طعنہ دیتا ہے، جبکہ اس میں عیب ہیں، جو ان کے عیوب کے سامنے ایسے ہیں ، جیسے تنکا شہتیر کے مقابلے میں
اے اللہ کے بندے!
اپنے عیبوں کی فکرکر، کیونکہ جو اپنے عیب چھوڑ کر دوسروں کے عیبوں میں مشغول ہو جائے، اس کا دل اندھا ہو جاتا ہے، بدن تھک جاتا ہے، فکر بڑھ جاتی ہے اوراس کے لیے اپنی خامیاں دور کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
سب سے زیادہ لاچار وہ ہے جو لوگوں کے عیب بیان کرے اور اس سے بھی بڑھ کرعاجز و بےبس وہ ہے ، جو لوگوں میں وہ عیب نکالے ، جو عیب اسِ کی ذات میں ہیں۔ اور(یہ بھی یادرہے کہ) جو لوگوں کے عیب بیان کرتا ہے ، لوگ اس کے عیب بیان کرتے ہیں اور جو ان کی مذمت کرتا ہے وہ اس کی مذمت کرتےہیں۔
ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف لائے ا ور بآوا ز بلند فرمایا:
" اے وہ لوگو! جو زبانى کلامی ایمان لائے ہو اور جن کے دلوں تک ایمان کے رسائی نہیں ہوئی، مسلمانوں کو تکلیف نہ دو، ان کو طعنہ نہ دو اورنہ ہی ان کی عیب جوئی کرو ، کیونکہ جو اپنے مسلمان بھائی کا عیب تلاش کرتا ہے ، اللہ تعالی اس کے عیب تلاش کرتا ہے اور جس کے عیبوں کے پیچھے اللہ پڑ گیا، اسے وہ ذلیل ورسوا کر دیتا ہے، خواہ وہ اپنے گھر کے اندر ہی کیوں نہ ہو"(ترمذی شریف.)
اے مسلمانو!
ان مسلمانوں کے بارے میں بدگمانى ممنوع ہے ، جن کی امانت و دیانت اور ظاہری پردہ داری معروف ہو ۔
ارشادِ باری تعالی ہے( بلاشُبہ بعض بدگمانیاں گناہ ہیں )
چنانچہ بدگمانى کی جسارت نہ کرو ، حق و باطل میں دلائل کی روشنی میں فرق کرو اور تقوے و احتیاط کو ذہن نشین رکھو ۔
کہا گیا ہے کہ:"گمان کرنے والا ہمیشہ شک میں مبتلا رہتا ہے ، اگرچہ وہ حق بجانب ہی ہو
وہم و گمان، شکوک و شبہات اور وسوسوں کے چکر سے نکلو اوراہلِ خانہ ، اقربا اور دیگر لوگوں کو خائن نہ سمجھو، کیونکہ بےعیب کو عیب دارد سمجھنے والا اور با اخلاق و باکمال میں خامی نکالنے والا انتہائی ظالم اور بے انصاف ہوتا ہے۔
اے مسلمانو!
کبھی کبھی بےعیب لوگوں کو مذمت و ملامت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تو کبھی اسے بُرا کہا جاتا ہے ، جو برائی میں ملوث ہی نہ ہو اورکبھی بے قصوروں پر بہتان بازی کی جاتی ہے ، جبکہ بہتان باز کا شمارظالموں میں ہوتا ہے۔
بَری پرتہمت لگانے والا، جھوٹ باندھنے والوں میں سے ایک ہوتا ہے۔
اسما بنتِ یزید انصاری رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:" کیا میں تمہیں تمہا رے شاندار لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ تو انہوں نے کہا:ہاں کیوں نہیں! تو آپ نے فرمایا: تم میں سے شاندار وہ ہیں کہ جن پر نظر پڑ تےہی اللہ تعالیٰ کی یاد آجائے.
پھرفرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے بد ترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ تو انہوں نے کہا: ہاں کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: تمہارے بدترین لوگ وہ ہیں ، جو دوستوں میں بگاڑ پیدا کرتے، چغل خوری کرتےاور بے قصوروں کو مصیبت میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں
"۔ (اسےاحمد نے روایت کیا ہے).
میں وہی ہوں جسے تم نے عیب دار کہا ، حالانکہ اس میں عیب دانوں کے لیے کوئی عیب نہیں۔
البتہ جس پر جہالت اور کمینہ پن غالب و سوار ہو اور جس کا سینہ کیسے ، بغض اور عداوت سے بھرا ہو،غصے، حسد اورحصولِ دنیا کے مقابلے کی آگ سے بھڑک رہا ہو، وہی اٹکل، بے ایمانى، عیب لگانے، معیوب قرار دینے اور برائی کے ذریعے، تہمت لگاتا، نا انصافی و ظلم کرتا اور عزتوں کو پامال کرتا ہے۔ اور اگر اس کے اور کسی کے مابین کوئی تنازعہ، جھگڑا، دعویی یا مطالبہ کھڑا ہو جائے، توہ اپنے منہ سے اس کی عزت کو پلید کرتا اور اس پر ایسی تہمت لگاتا ہے، جو اس میں نہ ہو۔ اوراسے بد نام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ایک شاعر اورامس کے مخالف کے ما بین ، ایک کنویں پر مقدمہ چل رہا تھا ت شاعر کے فریقِ مخالف نے کہا ، یہ چور ہے اور چور کا بیٹا ہے۔
تو شاعر نے کہا: اس نے مجھ پر ایسی تہمت لگائی ہے ، جس سے میں اور میراوالد دونوں بری تھے۔
اور محض کنویں کے حصول کے لیے اس نے مجھ پر بہتان لگا دیا۔
اس نے مجھے چوروں کا چورکہا ،حالانکہ گزشتہ ساری زندگی میں، میرے والد کو کسی دو آدمیوں نے چور نہیں کہا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کسی آدمی کا کسی مسلمان کی بےعزتی میں ناحق زبان درازی کرنا، بڑے گناہوں میں سے ایک بڑا گناہ ہے ، اورایک گالی کے بدلے ، دو گالیاں دینا بھی کبیرہ گناہ ہے". (ابوداؤدشریف) .
" السبتان بالسب ة" یعنی ایک گالی کے بدلے دو گالیاں دینا۔
امسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں؛ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حج کے لیے نکلا، پس لوگ آپ کے پاس (سوال کرنے کے لیے) آتےتھے۔ چنانچہ جب کوئی کہتا: اے اللہ کے رسول ! میں نے طوا ف سے پہلے سعی کرلی یا کسی چیز کو مقدم یا کسی کو مؤخر کر دیا ہے۔ تو آپ فرماتے:" کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں۔ حرج صرف اسی پر ہے ، جس نے کسی مسلمان کی عزت پامال کی اور وہ ظالم ہو۔ سو یہی وہ شخص ہے، جو حرج میں پڑا اور ہلاک ہوا". (ا بو دا ؤد شریف).
جو کسی کے مقام و مرتبےاور قدر و منزلت کی بے قدر یاور لوگوں کی بےحرمتی کرے ، وہ انتہائی قابلِ نفرت اوربرا شخص ہے۔
حاسد و خود پسند شخص دوسروں کی عظمت و شان سے ہمیشہ بیگانہ ہوتا ہے۔
جبکہ لوگوں کو چھوٹا سمجھنے والا گھٹیا اور ان کو کمتر سمجھنے والا حقیر ہوتا ہے۔
درحقیقت اندھا وہی ہوتا ہے ، جسے اپنا حق دکھائی دے اور دوسروں کاحق اورمقام نظر نہ آئے۔
اے مسلمانو !
اللہ تعالی سے ڈرو، دل کی بیماریوں کا علاج کرو،شیطانى وسوسوں سے بچو۔
لغووبے ہودہ باتں اور بدگمانیوں کا شکارنہ بنو، نہ ہی لوگوں کی عیب جوئی پر وقت صرف کرو اور نہ ہی بغض و عداوت کے ہاتھوں تماشہ بنو،حق کو قبول کرو اوراس کے تابعدار بن جاؤ ۔
اسی پر اکتفا کرتے ہوئے ، الله سے بخشش ما نگتاہوں ، تم بھی اسی سے بخشش طلب کرو،بلاشبہ وہی رجوع کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔


دوسرا خطبہ

ا ے مسلمانو!
اس عیب جوئی کرنے والے اور طعنہ دینے والے کی، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں مذمت کی ہے ، جو اپنے بھائی کی عدم موجودگی میں، اس کی عیب جوئی کرتا ہے اوراس کی ملاقات پر اسے طعنہ دیتا ہے ۔
ارشادِ باری تعالی ہے( بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کی ، جو عیب ٹٹولنے والا ، غیبت کرنے والا ہو
کہا گیا ہے کہ: " همزُ ة" یعنی وہ جو آدمی کے سامنے غیبت کرے اور طعنہ دے اور "لمزة" سے مراد وہ ہے ، جو عدم موجودگی میں اس کی پیٹھ کے پیچھے اس کی غیبت کرے
زیادالاعجم کہتا ہے:
" میرے سامنے ہو تو جھوٹ بول کر میری محبت کے قریب ہوتےہو اور میری عدم موجودگی میں عیب جوئی اور غیبت کرتے ہو
قتادہ ومجاہد فرماتے ہیں:
"همزُ ہ" لوگوں کو طعنہ دینا جبکہ "لمزہ" سے مراد ان کے نسب میں طعنہ دینا ہے" ۔
ابنِ زید کہتا ہے:
" ھامز" ہاتھ سے لوگوں کو چوکہ لگانا اور مارنا جبکہ "لمزہ" سے مراد لوگوں کو زبان سے طعنہ مارنا ہے
ا ے مسلمانو !
جاسوسی کرنا ، امانت رکھے گئے رازوں اور پوشیدہ باتں کو فاش کرنا، ذلت ورسوائی اور قابلِ نفرت کمینگی ہے۔
صرف قابلِ اعتماد شخص ہی راز کو چھپاتا ہے۔
اور راز شاندار لوگوں کے پاس ہی محفوظ رہتا ہے۔ سمجھدار شخص وہی ہوتا ہے، جو راز کو چھپا کر رکھے۔
حکیم کہتا ہے: " آزاد لوگوں کے دل، رازوں کے مدفن ہوتے ہیں
اور کہا گیا ہے کہ:"چیک کرنے سے پہلے، ہر ایک آدمی پرمطمئن ہونا حماقت ہے"
اور کہا گیا ہے کہ: راز کو طلب گار کے سپرد نہ کرو، کیونکہ وہ راز کو ضائع کر دینے والا ہے۔
چنانچہ ہر فسادی ، چغل خوراورٹوہ لگانے والے سے خبردار! اگرتو نے اس کے پاس راز اما نت رکھا،تو وہ چغل خوری کرے گا اوراگر چھپایا تو وہ بدہضمی کا شکار ہوجائے گا ، جو لوگوں نے کہا، اسے یاد کرلیا اور جو مس ہوگیا ، اسے خوب کریدلیا ، نہ بات پر کنٹرول کر سکتا ہے اورنہ راز کی حفاظت پر قادر ہے ۔
جب آدمی اپنے راز کو بذاتِ خود فاش کردے اوراس پر دوسرے کو ملامت کرے ، تووہ احمق ہے۔
جب آدمی کا دل اپنے راز سے تنگ ہو، تو جسے راز سونپا گیا ہے ، اس کا دل زیادہ تنگ ہے۔
عداوت ابھارنے والوں، شر انگیزوں ، جاسوسوں اور خبروں کی کھوج لگانے والوں سے خبردار! جو رازوں کو ڈھونڈتے ، تدریجاًدھوکہ دیتے اور لوگوں کی باتں پر کان لگاتے ہیں۔سو انہوں نے کتنی ہی میّتوں کو کریدا اور کتنے ہی گھروں کو تباہ کیا۔
جو آپ کے سامنے چغلی کرتا ہے ، وہ آپ کی بھی چغلی کرتا ہے۔
اور جولوگوں کی خبریں تم کو بتائے، جان لو کہ وہ آپ کے خلاف بھی بُری زبان ہے۔
ابنِ حزم کہتے ہیں" : تمام لوگوں میں چغل خوروں سے بڑھ کر، اگر کوئی شریرہے تو وہ چغل خور ہی ہیں۔ جبکہ چغلی ایک ایسی فطرت ہے ، جو گندی نسل، گھٹیا شاخ، عادت کے فساد اورناپاک نشونما پر دلالت کرتی ہے۔چغل خوری کرنے والا جھوٹ سے محفوظ نہیں ۔ کیونکہ چغلی جھوٹ کی شاخوں میں سے ایک شاخ اوراس کی قسموں میں سے ایک قسم ہے، اسی لیے ہر چغلخور جھوٹا ہے
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں، میں نے نبی مکرم ﷺ سے سنا آپ فرما تےتھے:"چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا "( بخاری و مسلم) اور مسلم شریف کے لفظ ہیں ".چغل خوری کرنے والاجنت میں داخل نہیں ہوگا
اے اللہ کے بندو!
ان گھٹیا امور اور برے کاموں سے بچو، جو نیکیوں کو کھاتے، عداوتں کو ہوا دیتے، جھگڑوں کا بیج بوتے، خاندانوں اور گھروں کو تباہ کر دیتے ہیں۔
ہادی و تمام کائنات کے شافع، احمد ﷺ پر درود و سلام بھیجو، پس جس نے آپ ﷺ پر، ایک بار درود بھیجا، اللہ تعالی اس پر، اس کے عوض دس رحمتیں نازل فرمائیگا۔
 
Top