ذیشان خان

Administrator
مخلص شخص کی اہم پہچان

أعمال القلوب، د.خالد السبت | ( 1 / 89 ).
مذکورہ کتاب کے اقتباس کی اردو ترجمانی:

✍⁩ حافظ عبدالرشید عمری

اخلاص ایک ایسی اہم ایمانی صفت ہے کہ اس سے متصف مسلمان اپنے نیک اعمال میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتا ہے،
کیوں کہ غیر اللہ کی خوشنودی کے لئے نیک عمل کرنے والا ریاکار شخص اپنی خواہش کی تکمیل نہ ہو تو نیک اعمال ترک کر دیتا ہے ۔
اس کے برعکس اللہ تعالٰی کی خوشنودی کے لئے نیک اعمال کرنے والے کے مد نظر صرف اللہ ہی کی خوشنودی پیش نظر رہتی ہے،
اور اس کے اعمال میں پابندی اور ثابت قدمی پائی جاتی ہے۔
اسی لئے سلف کا قول ہے:"ما كان لله دام و اتصل،و ما كان لغير الله انقطع و انفصل"
اللہ کے لئے جو عمل ہو گا اس میں مداومت اور ثبات قدمی کا مظاہرہ گا اور جو عمل غیر اللہ کے لئے ہوگا اس میں مدوامت اور ثبات قدمی کا فقدان ہوگا،
اس مسئلہ کا نکتہ یہ ہے کہ مخلص شخص اللہ کی بخشش پر کامل یقین رکھتا ہے، اللہ کی بخشش میں تاخیر پر راضی رہتا ہے،مصیبت میں اللہ سے اجر کی امید رکھتا ہے،
اس کے برعکس اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے نیک عمل کرنے والا یا غیر اللہ کی خوشنودی کے پیش نظر نیک عمل کرنے والااپنی خواہش کی عدم تکمیل پر اور غیر اللہ کی خوشنودی حاصل نہ ہونے کی صورت میں عمل کرنا چھوڑ دیتا ہے۔

اسی لئے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
جو غیر اللہ کی خوشنودی کے پیش نظر کسی نیک کام کو پسند کرتے ہوئے کوئی نیک کام کرتا ہے،
تو ایسے شخص کو اس کی خواہش کی تکمیل اور عدم تکمیل ہر دو صورت میں انجام بد کے اعتبار سے ضرور نقصان لاحق ہو گا،
اگر اس کی خواہش کی تکمیل نہ ہو تو بھی اس کو تکلیف ہوگی۔
اور اگر اس کی خواہش کی تکمیل ہو جائے ،
تو پھر بھی اس کو تکمیل خواہش سے ملنے والی لذت سے زیادہ انجام بد کی تکلیف پہنچ کر رہے گی،
یہ ایسی یقینی عبرت کی بات ہے جو حالات و حوادث کے جائزہ سے ثابت ہے۔
اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ غیر اللہ کی خوشنودی کے پیش نظر کئے جانے والے ہر کام میں ایمانی اور اخروی اعتبار سے نفع سے زیادہ نقصان ہے۔
تو اس لحاظ سے ہر مخلوق کی محبت جو اللہ کے لئے نہ ہو اور اللہ کی اطاعت کے مطابق نہ ہو،
تو اس کے لئے وبال جان ہے۔

جس طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث ہے۔
" الدنيا ملعونة ملعون ما فيها إلا ذكر الله و ما والاه و عالما أو متعلما. رواه الترمذي و قال حديث حسن .
دنیا ملعون ہے اور جو کچھ سامان اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے،سوائے اللہ تعالٰی کے ذکر أور اس کے متعلقات کے اور عالم یا متعلم۔
"و ما والاه " کا مطلب اللہ کی اطاعت ہے یعنی ایسے امور بجا لانا جن میں اللہ کی اطاعت و فرماں برداری اور اس کی قربت کا پہلو ہو۔"
حديث اور ترجمہ حافظ صلاح الدین یوسف رحمه اللہ کی شرح رياض الصالحين (اردو) سے ماخوذ ہے۔

اللہ تعالٰی ہر مسلمان کو اپنے اقوال و اعمال میں اخلاص پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ۔
 
Top