سردی کے آداب و احکام سنت کی روشنی میں

ب🖋صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی

اسلامی بھائیو!
موسموں کا بدلنا، رات اور دن کا آنا جانا اس میں ہمارے لئے عبرت ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے : اِنَّ فِىْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّـهَارِ لَاٰيَاتٍ لِّاُولِى الْاَلْبَابِ (آل عمران۔ 190)
بے شک آسمان اور زمین کے بنانے اور رات اور دن کے آنے جانے میں یقیناٙٙ عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔
تو آج کی نصیحت دن و رات زمین آسمان اور ماہ وسال کے بدلنے کے تعلق سے ہے۔
ہم اس وقت سردی کے موسم سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، اور یہ سردی اور گرمی کی تبدیلی جہنم کے سانس لینے کی وجہ سے ہے، جس سے ہمیں جہنم کی عذاب کے ایک معمولی سی جھلک ملتی ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اشتکت النار الی ربھا فقالت : یارب اکل بعضی بعضا ، فاذن لہا نفسین نفسا فی الشتاء ونفسا فی الصیف ، فاشد ماتجدون من الحر من سموم جہنم واشد ماتجدون من البرد من زمہریر جہنم { صحیح بخاری : 537 )
ترجمہ : جہنم نے اپنے رب سے شکایت کرتے ہوئے کہا : اے میرے رب ؛ میرے ایک حصے نے دوسرے کوکھا لیا ،لہذا اللہ تعالی نے اسے دو سانسوں کی اجازت دے دی ، ایک سانس سردی کے موسم میں اور دوسری سانس گرمی کے موسم میں، اس طرح تمہیں جو سخت گرمی محسوس ہوتی ہے وہ جہنم کی گرمی کی وجہ سے ہے اور جو سخت سردی محسوس ہوتی ہے وہ جہنم کے زمہریر کی وجہ سے ہے۔
اللہ رب العالمین ہم سب کو جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھے ۔

اللہ کے بندو! موسمِ سرما کے کچھ شرعی آداب و احکام سنت نبوی ﷺ سے ثابت ہیں، جو آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں، لہذا ہر مومن کو چاہئے کہ ان پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔
1-انھیں احکام میں سے ایک سخت سردی اور ٹھنڈک کی وجہ سے جمع بین الصلاتین یعنی دو صلاة اکٹھی کی جا سکتی ہیں، اسی طرح سے سخت ٹھنڈی ہوا، برف باری، اور بارش کی وجہ سے بھی دو صلاتوں کو اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ اور ان کے علاوہ بلا کسی عذر کے دو صلاة کو اکٹھا کرنا گناہ ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے ایک صلاة وقت میں ادا نہیں ہو پائیگی، جس کی وجہ سے ایسا کرنے والے کو دوبارہ پھر سے اس صلاة کو ادا کرنا گا۔
2- اسی طرح سے موسم سرما میں دوسرا حکم یہ ہے کے خاص طور سے وضو کرتے وقت یہ خیال رکھیں کے اچھی طرح سے وضوء کریں، تاکہ اعضائے وضوء سے کچھ بھی چھوٹنے نہ پائے، یہ تنبیہ اس وجہ سے کی جا رہی ہے، کیونکہ اس موسم میں موٹے کپڑے پہنے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ سستی اور کاہلی سے کچھ اعضاء وضوء چھوٹ سکتے ہیں۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں ہم سے پیچھے رہ گئے۔ پھر (تھوڑی دیر بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو پا لیا اور عصر کا وقت آ پہونچا تھا۔ ہم وضو کرنے لگے اور (اچھی طرح پاؤں دھونے کی بجائے جلدی میں) ہم پاؤں پر مسح کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ويل للأعقاب من النار» ”ایڑیوں کے لئے آگ کا عذاب ہے “ دو مرتبہ یا تین مرتبہ فرمایا۔ (بخاری۔ حدیث نمبر ١٦٣)
اس لئے ناپسندیدگی کے باوجود اچھی طرح سے وضو کرنا ایمان کی خصلتوں میں سے اور افضل اعمال میں سے ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ‘‘

(کیا میں تمہاری اس چیز کی جانب رہنمائی نہ کروں جس کے ذریعے اللہ تعالی گناہوں کو مٹا دیتا ہے، اور درجات کو بلند فرماتا ہے؟ صحابہ نے فرمایا: کیوں نہیں ،ضرور یا رسول اللہ! فرمایا: مشقت وناگواری کے وقت بھی اچھی طرح کامل وضوء کرنا، مساجد کی طرف باکثرت قدم اٹھا کر جانا، اور ایک صلاة کے بعد دوسری صلاة کا انتظار کرنا، یہی تو رباط ہے(یعنی ایک صلاة کے بعد دوسری صلاة کے لئے چوکس رہنا ہے، اس طرح سے ہے جیسے مجاہدین سرحدوں پر مورچہ بند چوکس وتیار رہتے ہیں۔ ( مسلم حدیث نمبر۔ ٢۵٣)
3- اللہ کے بندو! سردی کے احکام سے متعلق یہ بھی ہے کہ ہم اپنے وقت کا بہترین استعمال کرتے ہوئے اللہ کی عبادت میں گزاریں۔
حسن بصری رحمة الله علیہ فرماتے ہیں ٹھنڈک کا موسم مومن کے لئے نعمت ہے کہ رات لمبی ہوتی ہے جس میں وہ اٹھ کر تھجد ادا کرتا ہے،اور دن چھوٹا ہوتا ہے جس میں وہ آسانی کے ساتھ صوم رکھتا ہے۔
4- سردی کے احکام میں سے یہ بھی ہے: کہ مومن اس موسم میں یہ غور و فکر کرے اور اللہ رب العالمین کا شکر ادا کرے کہ اللہ نے اسے اسی کی مناسبت سے لباس ادا کیا، اور اسے گھر ادا کیا ہے، کیونکہ امن و امان بہت بڑی نعمت ہے
نبی نے فرمایا: مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا فِى سِرْبِهِ مُعَافًى فِى جَسَدِهِ عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا
’’جس نے جسمانی تندرستی اور اپنے بال بچوں اور مال و اسباب سے اطمینان کی حالت میں صبح کی۔ اور اس کے پاس ایک دن کا کھانا بھی ہو تو گویا اس کو پوری دنیا دے دی گئی۔‘

اسی طرح سے وہ غریبوں کے بارے میں بھی سوچے کہ وہ اس سخت سردی میں کیسے گزر بسر کرتے ہونگے، لھذا ان سے ہمدردی اور ان کی مدد کریں۔

5- اسی طرح سے سردی کے احکام میں سے یہ بھی ہے :
کے ہم موزہ پر مسح اور اس کے شروط سے متعلق علم حاصل کریں، ہمیں معلوم ہو کہ ہم کب اور کتنے دن تک موزہ پر مسح کر سکتے ہیں۔
لہذا موزوں پر مسح کے چار شروط ہمیں یاد رکھا چاہئے۔
1- پاکی کی حالت میں( با وضوء) پہنا ہو
2- دونوں موزے( کپڑا، چمڑا، اون) چاہے جسکا ہو پاک ہوں نجس نہ ہو۔
3- مسح حدث اصغر میں جائز ہوگا،بحالت جنابت یا جس ناپاکی کے بعد غسل کی ضرورت پڑتی ہے اس میں موزوں پر مسح جائز نہیں ۔
مسح مدت معینہ کے اندر ہی جائز ہوگا یعنی
مقیم ایک دن اور ایک رات یعنی 24 گھنٹے تک موزے پہ مسح کر سکتا ہے اگر وہ باوضوء پہنا ہے۔
اور مسافر تین دن اور تین رات تک موزوں پر مسح کر سکتا ہے، اگر وہ پاکی کی حالت میں اور باوضو پہنا ہوا ہے۔
ورنہ اگر وقت نکل جانے کے بعد بھی مسح کر رہا ہے، یا موزہ باوضو نہیں پہنا تھا، تو صلاة ادا نہیں ہوگی ۔
لہذا اس بات کا خیال رکھنا، اور جانکاری حاصل کرنا بے حد ضروری ہے ۔
 
Top