حجاب کے تعلق سے شک پیدا کرنا دشمنان اسلام کی ایک سازش

صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی

اللہ رب العالمین کی حمد و ثناء اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درودو سلام کے بعد

عورتوں کا حجاب یہ بڑا اہم مسئلہ ہے اسکے بارے میں ہماری شریعت ہمیں رہنمائی کرتی ہے ، اور کتاب و سنت میں اس کے متعلق بہت سارے دلائل موجود ہیں ۔
ساتھ ہی ساتھ اسلام کے داخلی اور خارجی دشمن اس کے بارے میں شک پیدا کرتے ہیں، اور کبھی کبھی اس کا مذاق اڑاتے ہیں ،اور اس کی برائی کرتے ہیں، تاکہ ہم اس کو چھوڑ دیں ۔
مسلمانو! حجاب یہ عورتوں کے لئے پردہ ہے ،ان کے پاکدامنی کی حفاظت ہے ، اور اس میں اللہ کی امانت کی بھی حفاظت ہے ، صلاح اور دیانتداری کی علامت اور نشانی ہے ۔
میرے بھائیو! حجاب یہ وہ لباس ہے جو بدن کے سارے حصے کو سرسے لے کر کے قدم کے آخری حصّے تک چھپائے ۔
اس شرط کے ساتھ کی اس کے اندر کوئی فتنہ نہ ہو ، تنگ نہ ہو اور اس میں ہر طرح کی شفافیت پائی جاتی ہو ۔
اس مبارک ملک میں جو وحی و رسالت کی سرزمین ہے ، حیا اور پاکدامنی اسکا امتیاز ہے ، عورتیں عبایا، اور پردے میں نکلتی ہیں ، اور اجنبی مردوں سے دور رہتی ہیں ،الحمدللہ مملکت کے اکثر شہروں میں یہ چیزیں پائی جاتی ہے ۔
لیکن اسی کے درمیان حجاب کے تعلق سے کچھ باتیں کہی جاتی ہیں، اور کچھ چیزیں دیکھی جاتی ہیں ، وہ یہ ہیں کہ بعض لوگ سفر میں اس شک میں رہتے ہیں کہ چہرے کا ڈھانکنا مستحب ہے یا واجب ہے ، یا یہ چیز کہتے ہیں کہ یہ حجاب ایک تہذیب ہے ، یا تقلید ہے جو نسل در نسل چلی آرہی ہے اس کا وجوب و استحباب سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
اس لئے آپ کے سامنے حقیقت پر روشنی ڈالنا بہت ضروری ہے ،رب العالمین ہمارے ذریعہ حق کو واضح کرے ، ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں سے بنائے ، اور اس بات کی توفیق بخشے کہ جب حق مل جائے تو اس کو مان لیں ، اور باطل کا باطل ہونا ثابت ہوجائے تو اس سے بچیں اور پرہیز کریں ، آمین
تو سب سے پہلے قرآن کریم سے دلیل دیکھتے ہیں اللہ رب العالمین کا فرمان ہے : اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں ۔
میرے بھائیو! خِمار یعنی ڈوپٹہ کہتے ہیں جسے عورت اپنے سر کو ڈھانپتی ہے ،آیت کریمہ کے اندر حکم دیا جا رہا ہے کہ سر سے ڈھانکنے والے اس ڈوپٹے سے اپنے سینے تک کو ڈھاکے رہا جائے ، لہذا اس کے اندر چہرہ بھی شامل ہے ، لہذا خِمار یعنی ڈوپٹہ سر سے لے کر سینے تک ڈھاپنے کو کہیں گے ۔
اور اگر ہم یہ کہیں کہ سینے کا ڈھانکنا واجب ہے ، تو چہرہ تو سینے سے بھی اولی اور اہم ہے ، کیونکہ چہرے ہی سے خوبصورتی ظاہر ہوتی ہے اور اسی سے فتنہ بھی پیدا ہوتا ہے ، اور اگر کسی کی خوبصورتی کو دیکھنا ہوتا ہے، تو لوگ چہرہ ہی دیکھانے کو کہتے ہیں ، کیونکہ چہرے کے علاوہ سے خوبصورتی کا پتہ نہیں چلتا ہے ۔
اسی لئے اگر آپ کہیں فلاں شخص خوبصورت ہے ، تو جب تک اس کے چہرے کے بارے میں نہیں بتلائیں گے ، اس کی خوبصورتی کوئی سمجھے گا ہی نہیں ۔
تو ہم نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ ہماری حکمت سے پر اس شریعت نے سینہ ڈھانکنے کا تو حکم دیا لیکن چہرہ کھولنے کی رخصت دی ہے ۔
اسی طرح اللہ تعالی نے فرمایا : اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ ماریں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے،( النور 31)
اللہ تعالی نے عورت کو زمین پر پیر اس وجہ سے مارنے سے منع کیا تاکہ آدمی زیوروں کی آواز کی وجہ سے فتنہ میں نہ پڑ جائے ، تو چہرے کا کھلا رکھنا کیسے جائز ہو سکتا ہے ، آدمی کا زیور کی آواز کو سن لینا فتنہ ہے؟
یا حسین و جمیل خوبصورت چہرے کا دیکھ لینا بڑا فتنہ ہے ؟
ہرعقل والا انسان یہی کہے گا کہ چہرے کا دیکھنا ہی بڑا فتنہ ہے ، لہذا زیادہ مستحق یہی ہے کی چہرے کو بھی ڈھانکا جائے اور اسکا بھی پردہ کیا جائے ۔
اسی طرح قرآن کریم میں اللہ رب العالمین نے فرمایا : اے نبی اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے مونہہ پر نقاب ڈالا کریں، یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ نہ پہچانی جائیں پھر ستائی نہ جائیں، اور اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے ، ( سورہ احزاب 59)
ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اس آیت کریمہ میں مومن عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی ضرورت کے تحت اپنے گھر سے نکلیں تو اپنے سر کے اوپر سے چہرہ سمیت نقاب ڈالے رکھیں اور ایک آنکھ صرف ظاہر ہو ، یہ صحابی کی تفسیر ہے اور صحابی کی تفسیر حجت ہوتی ہے ،
ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ قول صرف ایک آنکھ کھلی رکھے ، یہ ضرورت کے تحت ہے تاکہ راستے کو دیکھ سکے ،یعنی اگر اس کی بھی ضرورت نہ ہو تو ایک آنکھ کو بھی کھلا رکھنا نہیں چاہیے ۔
اسلامی بھائیو ! میں نے آپ کے پاس یہ تین دلائل قرآن کریم سے بطور مثال پیش کیا ہے ،جو اجنبی مردوں سے پردہ کرنے کے وجوب پر دلالت کرتے ہے ۔
اب آئیے ہم احادیث نبوی سے دلیل پیش کرتے ہیں : جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی کسی عورت کو نکاح کا پیغام بھیجے ، تو اگراسے نکاح میں رغبت دلانے والی چيز دیکھ سکتا ہو تو اسے دیکھ لینا چاہیئے ۔ (رواہ احمد اور البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے)
یہاں پر دیکھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف نکاح کا پیغام بھیجنے والے کو دیکھنے کا حکم دیا ہے ،لہذا اگر کوئی دوسرا دیکھتا ہے تو وہ گنہگار ہوگا ، اسی طرح سے اگر کوئی اپنی منگیتر کے چہرے کو دیکھنا چاہتا ہے یا اس کی خوبصورتی کو دیکھنا چاہتا ہے تو صرف اسی کو اجازت ھے کہ وہ دیکھے ۔
اسی طرح سے ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس آدمی نے اپنے کپڑے کو تکبر سے ٹخنے سے نیچے لٹکایا اللہ تعالی اسے قیامت کے دن نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا ۔ ام سلمہ رضی اللہ عنھا نے کہا کہ عورتیں اپنے کپڑے کتنا لٹکائیں ، تو آپﷺ نے فرمایا ایک بالشت لٹکا لیا کریں ۔۔انھوں نے عرض کیا کہ اس صورت میں ان کے پاؤں کھل جائیں تو؟ آپﷺ نے فرمایا تو ایک ہاتھ لٹکا لیں اس سے زیادہ نہ لٹکائیں۔
اس حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے قدم کا بھی پردہ بتلایا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عورتیں قدم کا بھی پردہ کیا کرتی تھیں ۔
لہذا اگر قدم کا کھلا رکھنا فتنہ ہے تو چہرے کو کھلا رکھنا یہ اور بڑا فتنہ ہے، لہذا کسی ادنیٰ چیز کی تنبیہ سے اعلی چیز سے متنبہ ہونا اور اہم و اولی ہو جاتا ہے ۔
ان دلائل سے حق کے متلاشی اور رب سے ڈرنے والوں پر واضح ہوگیا کہ عورت اپنے پورے جسم کا پردہ کرے گی ۔
مسلمانو ! اسلام دشمنوں کے جھانسے میں نہ آؤ ، اورحجاب کے سلسلے میں عورتوں میں کسی طرح کی تشویش نہ پیدا کرو ، ہم میں سے بعض لوگ جاہلوں اور مغرب کے بد تہذیب لوگوں کی پیروی کرتے ہیں ، بعض لڑکیاں شرق و غرب میں تعلیم حاصل کرنے کے لیئے جاتی ہیں اور بدتہذیبی، عریانیت ، مردوں سے اختلاط وغیرہ جو نصاری کا طریقہ ہے اسے سیکھ کر آتی ہیں اور اسی کو زینت سمجھتی ہیں ۔
اے مومنو ! اے والدین ! اے شوہرو! اے میرے بھائیو ! اللہ سے ڈرو اور اپنے اہل وعیال کو بیوقوف اور بد تہذیب لوگوں کا کھلونا نہ بناؤ ! اور آگاہ رہو !اسلام دشمن عناصر اور میڈیا ہمیں بری عادتوں میں اور رذیل حرکتوں میں ڈھکیل دینا چاہتے ہیں جس طرح وہ خود اس میں ملوث ہیں ۔
اللہ تو ہی توفیق دینے والا ،اور ہدایت دینے والا ہے ۔
اللہ تعالی تو ہماری عزتوں ،ہمارے اہل و عیال کی عزتوں ،اور تمام مسلمانوں کی عزتوں کی حفاظت فرما ۔ آمین
 
Top